ٹریکٹر پریڈ کو منظوری: ’آج تک کسی نے ایسی پریڈ نہ نکالی ہوگی، نہ دیکھی ہوگی‘ کسانوں کا دعویٰ

کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پریڈ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ ہر ٹریکٹر پریڈ کے راستے سے اپنے دھرنے تک نہیں آجاتا ہےاور یہ مدت 24 گھنٹے سے 72 گھنٹے تک بھی ہوسکتی ہے۔

ٹریکٹر ریلی / تصویر آئی اے این ایس
ٹریکٹر ریلی / تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

ویسےتو کسانوں نے ٹریکٹر پریڈ کےلئے نہ صرف ذہن بنا لیا تھا بلکہ پوری تیاری بھی کر لی تھی اور بڑی تعداد میں گزشتہ تین چار روز سےاپنے ٹریکٹر لے کرکسان دہلی کی طرف روانہ ہو رہے ہیں لیکن کل ہریانہ ، دہلی اور اترپردیش کی پولیس نے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 26 جنوری کے لئے کسانوں کو دہلی میں ٹریکٹر پریڈ کی منظوری دے دی ۔ منظوری ملتی یا نہ ملتی کسانوں نے اپنی پریڈ کا ذہن بنا لیا تھا بس اس منظوری سے تشدد کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔

یہ اطلاع کل شام منعقدہ کسان سنیکت مورچہ کے اجلاس میں دی گئی۔ اس میٹنگ میں رضاکاروں سے لے کر کھانے پینے کے انتظامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کسانوں نے دعوی کیا ہے کہ آج تک کسی نے بھی عالمی سطح پر اس طرح کی پریڈ نہ تو نکالی ہوگی اور نہ ہی دیکھی ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ دہلی ، ہریانہ اور اتر پردیش پولیس نے بھی ہر سطح پر مدد کی یقین دہانی کرائی ہے تاکہ کوئی پریشانی نہ ہو۔ وقت اور جگہ کے بارے میں کسان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پریڈ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ ہر ٹریکٹر پریڈ کے راستے سے اپنے دھرنے تک نہیں آجاتا ہے۔ یہ 24 گھنٹے سے 72 گھنٹے تک بھی ہوسکتا ہے۔ جہاں تک روٹ کا سوال ہے وہ اتوار کو بتایا جائے گا۔

یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہر سرحد کے لئے الگ راستہ بنانے کا منصوبہ ہے۔ چونکہ جتنی تعداد میں کسان پہنچ رہے ہیں، اس میں ایک ہی راستے پر پوری پریڈ نکالنا ممکن نہیں ہے۔ ایسی صورت میں جتھہ بندیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ پانچ راستوں کے لئے مختلف منصوبے بنائے گئے ہیں۔ کسان رہنما یوگیندر یادو ، ڈاکٹر درشن پال ، گرنام سنگھ چڈھونی وغیرہ نے بتایا کہ کنڈلی بارڈر کے لئے روٹ مختلف ہوگا ، ٹکری کے لئے الگ ، غازی پور ، شاہجہاں پور اور پلول کے دھرنے کے لئے الگ روٹ طے کیا گیا ہے۔ فی الحال روٹ پلان جلد ہی شیئر کیا جائے گا۔

اس سے قبل کسان رہنماؤں اور تینوں ریاستوں ہریانہ ، اتر پردیش اور دہلی پولیس کے اعلی عہدیداروں کے درمیان بات چیت کا پانچواں دور ہوا۔ اس کے بعد پریڈ کے راستے پر دونوں فریقوں نے اتفاق کیا ہے۔ کسان رہنماؤں نے کہا کہ یہ کسان تحریک کے لئے ایک بڑی جیت ہے۔ ادھر نیتا جی سبھاش چندر بوس کی سالگرہ 'آزاد ہند کسان دیوس' کے نام سے پورے ملک میں منائی گئی۔ مختلف مقامات پر مظاہرے کئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ پورے ملک سے کسانوں اور مزدوروں کا دہلی آنا جارہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next