وزیر اعظم کے ’من کی بات‘ پروگرام کو جتنا مقبول عام ظاہر کیا جا رہا اتنا ہے نہیں، حقائق تو یہی بیان کر رہے

سروے میں جب لوگوں سے پوچھا گیا کہ انہوں نے ’پچھلے ایک سال (2021) کے دوران‘ ریڈیو، ٹی وی یا انٹرنیٹ پر کتنی بار پروگرام کو سنا، تو 10 میں سے صرف 1 نے کہا کہ انہوں نے اسے باقاعدگی سے سنا۔

من کی بات، تصویر آئی اے این ایس
من کی بات، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آواز تجزیہ

وزیر اعظم نریندر مودی کے ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ کی 100ویں قسط 30 اپریل 2023 کو نشر کی گئی تھی۔ اس سے قبل دو ہفتوں سے زائد عرصہ تک شہریوں کو بتایا گیا کہ ایک ’تاریخی‘ نشریہ (من کی بات) ہونے والا ہے جس میں وزیر اعظم ’لوگوں سے براہ راست رابطہ کریں گے۔‘ یہ پورا تشہیری عمل ’من کی بات‘ پروگرام کی عدم مقبولیت کو چھپاتا ہے، اور پروگرام کے تئیں یہ عدم مقبولیت بی جے پی حامیوں میں بھی ہے۔

وزیر اعظم کے ’من کی بات‘ پروگرام کو جتنا مقبول عام ظاہر کیا جا رہا اتنا ہے نہیں، حقائق تو یہی بیان کر رہے

سنٹر فار دی اسٹڈی آف ڈیولپنگ سوسائٹیز (سی ایس ڈی ایس) اور لوک نیتی کے اکتوبر 2022 میں شائع ایک سروے کے مطابق میڈیا (ٹی وی، انٹرنیٹ، سٹیریو) کی زیادہ موجودگی والے گھرانوں میں بھی پانچ میں سے دو نے گزشتہ ایک سال میں ’من کی بات‘ نہیں سنی تھی۔ اتنا ہی نہیں، ہر 10 میں سے صرف 3 نے اسے گزشتہ ایک سال میں ایک یا دو ہی بار سنا۔


یہ نتائج 15 سال یا اس سے اوپر کی عمر کے 7463 ہندوستانی شہریوں کے نمونے پر مشتمل ہیں جو کہ 19 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام خطے ہیں آندھرا پردیش، آسام، بہار، چھتیس گڑھ، دہلی، گجرات، ہریانہ، جھارکھنڈ، کرناٹک، کیرالہ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، اڈیشہ، پنجاب، راجستھان، تامل ناڈو، تلنگانہ، اتر پردیش اور مغربی بنگال۔

وزیر اعظم کے ’من کی بات‘ پروگرام کو جتنا مقبول عام ظاہر کیا جا رہا اتنا ہے نہیں، حقائق تو یہی بیان کر رہے

سی ایس ڈی ایس کی رپورٹ میں ’پی ایم کے من کی بات: حقائق کی جانچ‘ عنوان کے تحت بتایا گیا کہ جب جواب دہندگان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے ’پچھلے ایک سال (2021) کے دوران‘ ریڈیو، ٹی وی یا انٹرنیٹ پر کتنی بار پروگرام کو سنا ہے، تو 10 میں سے صرف 1 نے کہا کہ انہوں نے اسے باقاعدگی سے سنا ہے (5 فیصد ہر ماہ اور 5 فیصد بیشتر ماہ)۔ علاوہ ازیں پانچ میں سے تین شہریوں نے بتایا کہ انہوں نے اس پروگرام کو بالکل بھی نہیں سنا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ملک بھر میں جنوبی ہند کے لوگوں نے پروگرام کو شاید سب سے کم سنا، غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ وزیر اعظم کا خطاب ہندی میں ہوتا ہے اور اس زبان کو جنوبی ہند کے بیشتر افراد نہیں سمجھتے ہیں۔ جنوبی ہند میں یہ پروگرام نہ سننے والوں کی شرح 75 فیصد بتائی جاتی ہے۔ جانکاری تو یہ بھی دی گئی ہے کہ ہندی بولنے والی ریاستوں میں بھی وزیر اعظم کے ’من کی بات‘ پروگرام کی مقبولیت/سننے والوں کی تعداد کافی کم تھی۔ شہریوں کی اکثریت نے پچھلے سال اس پروگرام کو بالکل بھی نہیں سنا تھا۔ شمال مغربی اور مشرقی ہندوستان کے کم از کم 63 فیصد شہریوں نے اس پروگرام کو بالکل بھی نہیں سنا تھا۔ اس کے بعد غیر ہندی بولنے والی ریاستوں میں یہ شرح 62 فیصد تھی۔


رپورٹ میں جو بات حیران کرنے والی تھی وہ یہ ہے کہ بی جے پی کی طرف جھکاؤ رکھنے والوں میں نصف سے زیادہ لوگ پی ایم کا ریڈیو پروگرام نہیں سن رہے ہیں۔ وہ چند لوگ جو باقاعدگی سے پروگرام سنتے ہیں، وہ ایسے لوگ ہیں جو بی جے پی سے بے انتہا لگاؤ رکھتے ہیں۔ بی جے پی کے جھکاؤ والے جواب دہندگان میں سے کم از کم 51 فیصد نے ’من کی بات‘ پروگرام کبھی نہیں سنا تھا اور ان کے صرف 7 فیصد حامیوں نے اسے تقریباً ہمیشہ سنا تھا۔ مزید 7 فیصد حامیوں نے بیشتر مہینوں میں پروگرام کو سنا۔ تقریباً ہر ماہ ’من کی بات‘ سننے والے چند شہریوں میں سے 58 فیصد بی جے پی کی طرف جھکاؤ رکھتے تھے۔

وزیر اعظم کے ’من کی بات‘ پروگرام کو جتنا مقبول عام ظاہر کیا جا رہا اتنا ہے نہیں، حقائق تو یہی بیان کر رہے

یہ بات بھی واقعی حیرت انگیز ہے کہ میڈیا کی زیادہ موجودگی والے گھرانوں کے شہری بھی ’من کی بات‘ کو باقاعدگی سے نہیں سنتے، حالانکہ ان کا دوسروں کے مقابلے میں باقاعدہ ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ میڈیا کی زیادہ موجودگی والے گھرانوں میں 42 فیصد نے کبھی بھی پی ایم کا پروگرام نہیں سنا تھا، اور میڈیا کی درمیانی موجودگی والے گھروں میں 65 فیصد نے اس پروگرام کو نہیں سنا۔


بہرحال، پی آئی بی (پریس انفارمیشن بیورو) کی ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ ’من کی بات‘ کی 100ویں قسط سے ٹھیک پہلے آئی آئی ایم-روہتک نے ایک سروے جاری کیا جس میں انکشاف کیا گیا کہ من کی بات کے 23 کروڑ باقاعدہ سامعین تھے۔ مزید برآں سروے میں دعویٰ کیا گیا کہ ریڈیو پروگرام 100 کروڑ سامعین تک پہنچ چکا ہے اور اس نے 60 فیصد افراد کے رویے کو بھی متاثر کیا ہے، یہ اشخاص قوم کی تعمیر میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ریسرچ میں کہا گیا ہے کہ اس نے اب تک کے 99 ایڈیشنز میں اس پروگرام کے آبادی پر اثرات کا اندازہ لگانے کی کوشش کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ سامعین کی اکثریت حکومتوں کے کام کرنے سے واقف ہو چکی ہے اور 73 فیصد پرامید ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ ملک ’ترقی کی طرف جا رہا ہے‘۔

وزیر اعظم کے ’من کی بات‘ پروگرام کو جتنا مقبول عام ظاہر کیا جا رہا اتنا ہے نہیں، حقائق تو یہی بیان کر رہے

وزارت سیاحت نے تو وزیر اعظم کے مان کی بات پروگرام کی 100ویں قسط کے موقع پر ’100 ڈیز آف ایکشن‘ کا اعلان کیا تھا۔ اس پروگرام کو یادگار بنانے کے لیے 105 لوگوں کو دن بھر کے پروگرام میں شرکت کے لیے راجدھانی دہلی بھی بلایا گیا، جس کا افتتاح نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے کیا۔ جن لوگوں نے ’من کی بات @ 100‘ پر قومی کانکلیو میں بات کی، ان میں آئی پی ایس افسر کرن بیدی، اداکار عامر خان، باکسر نکہت زرین، ریو پیرا اولمپک سلور میڈلسٹ دیپا ملک وغیرہ شامل تھے۔


100ویں قسط کی شروعات کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے دعویٰ کیا کہ وجے دشمی کی طرح ’من کی بات‘ بھی ہندوستانیوں کی نیکی، امید، مثبتیت اور لوگوں کی شرکت کا جشن منانے کا ایک موقع بن گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے لیے ’من کی بات‘ عقیدت کا ایک طریقہ ہے اور شو میں ان کا پسندیدہ موضوع ’ثقافتی تحفظ‘ تھا۔ بہرحال، کرناٹک انتخابات سے قبل زبردست مہم کے درمیان ریاستی بی جے پی نے دعویٰ کیا کہ کرناٹک میں ’من کی بات‘ کی 100ویں قسط کے موقع پر تقریبات میں 10 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی۔

وزیر اعظم کے ’من کی بات‘ پروگرام کو جتنا مقبول عام ظاہر کیا جا رہا اتنا ہے نہیں، حقائق تو یہی بیان کر رہے

بہرحال، کانگریس نے اپنے آفیشیل سوشل میڈیا ہینڈل سے وزیر اعظم کے ’من کی بات‘ پروگرام کی 100ویں قسط پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ چین، اڈانی، بڑھتی ہوئی اقتصادی عدم مساوات، ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ، جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ حملے، خواتین پہلوانوں کی توہین، کسان تنظیموں سے کیے گئے وعدوں کی عدم تکمیل، کرناٹک جیسی نام نہاد ڈبل انجن والی ریاستی حکومتوں میں بدعنوانی جیسے اہم مسائل پر ’مون کی بات‘ (خاموش رہنے کی بات) تھی۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔