انتخابات سے پہلے پی ایم مودی نے بوہرا سماج کے سامنے جھکایا سَر

وزیر اعظم کے سیفی مسجد پہنچنے اور داؤدی بوہرا سماج سے اپنے قریبی رشتہ ظاہر کرنے کو کافی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ کچھ لوگ پی ایم کے اس دورہ کو مسلمانوں کے ایک طبقہ کو خوش کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی جہاں جاتے ہیں، کسی نہ کسی طرح وہاں سے اپنا رشتہ جوڑ ہی لیتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی آج (14 ستمبر) مدھیہ پردیش کے اندور واقع سیفی مسجد میں اس وقت دیکھنے کو ملا جب وہ بوہرا سماج کی تعریفوں کے پل باندھ رہے تھے۔ دراصل آج نریندر مودی داؤدی بوہرا طبقہ کی ایک تقریب میں اندور پہنچے اور سیفی مسجد میں امام حسین کی قربانی کو یاد کیا۔ اس موقع پر انھوں نے کہا کہ ’’بوہرا سماج کے ساتھ میرا رشتہ بہت پرانا ہے۔ میں ایک طرح سے اس سماج کا رکن بن گیا ہوں۔ آج بھی میرے دروازے آپ کے گھر والوں کے لیے کھلے ہیں۔‘‘ وزیر اعظم نے لگے ہاتھوں یہ بھی کہہ دیا کہ ’’گجرات میں قدم قدم پر ان لوگوں نے میرا ساتھ دیا تھا۔ میں بوہرا سماج کا شکرگزار ہوں جس نے گجرات میں میری کافی مدد کی تھی۔‘‘

سیاسی ماہرین وزیر اعظم کے سیفی مسجد پہنچنے اور داؤدی بوہرا سماج سے اپنے قریبی رشتہ ظاہر کرنے کو کافی اہم تصور کر رہے ہیں۔ چونکہ دو مہینے بعد ہی چار ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں اور عام انتخابات بھی کافی نزدیک ہیں، اس لیے پی ایم کے اس دورہ کو مسلمانوں کے ایک طبقہ کو خوش کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ چونکہ جن ریاستوں میں دو مہینے بعد اسمبلی انتخابات ہونے ہیں ان میں مدھیہ پردیش بھی شامل ہے، اس لیے اندور کی سیفی مسجد کا دورہ یقیناً سیاسی ہی کہا جائے گا۔ ایک اندازے کے مطابق مدھیہ پردیش میں داؤدی بوہرا کی آبادی تقریباً 20 لاکھ ہے اور شیوراج چوہان کے لیے یہ ایک بڑا ووٹ بینک ہے۔ یہی سبب ہے کہ پی ایم کے ساتھ سیفی مسجد کا دورہ کرنے والے مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیو راج چوہان اپنی تقریر میں یہ کہتے ہوئے نظر آئے کہ ’’ایسا اپنے ملک سے محبت کرنے والا، دوسروں کی مدد کرنے والا اور مہذب اگر کوئی سماج ہے تو وہ بوہرا سماج ہے۔‘‘

سیفی مسجد میں بوہرا سماج وزیر اعظم کی آمد کا پرزور استقبال کرتا ہوا تو نظر آ ہی رہا تھا، نریندر مودی بھی ہاتھ جوڑ کر اور سَر جھکا کر انھیں بھرپور عقیدت پیش کرتے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ وہ بوہرا مذہبی پیشوا کے درمیان نہ صرف ننگے پیر بیٹھے ہوئے تھے بلکہ جب اجتماعی طور پر وہاں کلمہ کا وِرد ہو رہا تھا تو نریندر مودی کے ہونٹ بھی کلمہ دہراتے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ یہ بات لوگوں کے لیے تھوڑا حیران کن ضرور تھی کیونکہ انھوں نے اکثر مسلمانوں کی تضحیک کی ہے اور وہ واقعہ تو کبھی نہیں بھلایا جا سکتا جب انھوں نے مسلم ٹوپی پہننے سے انکار کر دیا تھا۔ لیکن آج جب وہ داؤدی بوہرا جماعت کے روحانی پیشوا سیدنا مفضل سیف الدین کے ساتھ نہایت خلوص کے انداز میں ملے اور امام حسین کی شہادت کو انسانیت کے لیے دی گئی قربانی قرار دیا تو ایسا لگا جیسے وہ مسلمانوں سے پرانی رنجشوں کو بھول چکے ہیں، یا پھر یہ ان کی ایک اور بہترین اداکاری کا نمونہ ہو۔

سب سے زیادہ مقبول