مغربی ایشیا کی کشیدگی پر لوک سبھا میں وزیر اعظم مودی کا بیان، کہا- ’ہندوستان کو اقتصادی، سلامتی اور انسانی چیلنجز کا سامنا‘

وزیر اعظم نریندر مودی نے لوک سبھا میں مغربی ایشیا کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کے اثرات عالمی معیشت اور ہندوستان کی توانائی سپلائی پر پڑ رہے ہیں، حکومت ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے

<div class="paragraphs"><p>وزیر اعظم مودی / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے لوک سبھا میں مغربی ایشیا میں جاری جنگی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے اسے انتہائی تشویشناک قرار دیا اور کہا کہ اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور عوام کی زندگیوں پر پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے اس معاملے پر ایوان کو تفصیلی معلومات فراہم کی ہیں، اور دنیا بھر میں اس تنازعہ کے جلد حل کے لیے اپیل کی جا رہی ہے۔

نریندر مودی نے کہا کہ یہ بحران تین ہفتوں سے زیادہ عرصے سے جاری ہے اور اس نے ہندوستان کے سامنے کئی غیر متوقع چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔ ان کے مطابق یہ چیلنجز صرف اقتصادی نوعیت کے نہیں بلکہ قومی سلامتی اور انسانی پہلوؤں سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مغربی ایشیا وہ خطہ ہے جہاں سے ہندوستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ حاصل کرتا ہے، اس لیے وہاں کی کسی بھی کشیدگی کا براہ راست اثر ملک کی سپلائی چین پر پڑتا ہے۔

وزیر اعظم نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث تیل اور گیس کی درآمدات متاثر ہوئی ہیں، تاہم حکومت اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے متبادل راستے تلاش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اس وقت 41 ممالک سے توانائی کی درآمد کرتا ہے اور موجودہ حالات کے پیش نظر مزید متبادل ذرائع پر بھی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ سپلائی میں تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔


انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مغربی ایشیا ہندوستان کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ وہاں تقریباً ایک کروڑ ہندوستانی رہتے اور کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ سمندری راستوں پر چلنے والے تجارتی جہازوں میں بڑی تعداد میں ہندوستانی عملہ شامل ہے، جس کے باعث اس خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی ہندوستان کے مفادات کو براہ راست متاثر کرتی ہے۔

نریندر مودی نے کہا کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے حکومت مسلسل وہاں موجود ہندوستانیوں کی مدد میں مصروف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے خود مغربی ایشیا کے کئی ممالک کے سربراہان سے ٹیلی فون پر بات کی ہے اور سب نے ہندوستانی شہریوں کی حفاظت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس کے باوجود کچھ ہندوستانیوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے ہیں، جن کے متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیرون ملک ہندوستانی مشنز مسلسل سرگرم ہیں اور وہاں مقیم یا سفر کرنے والے تمام شہریوں کو مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ حکومت نے 24 گھنٹے فعال کنٹرول روم اور ایمرجنسی ہیلپ لائنز بھی قائم کی ہیں تاکہ بروقت معلومات اور مدد فراہم کی جا سکے۔

وزیر اعظم کے مطابق اب تک تین لاکھ بہتر ہزار سے زائد ہندوستانی محفوظ طریقے سے وطن واپس آ چکے ہیں، جبکہ ایران سے بھی ایک ہزار افراد کو نکالا گیا ہے جن میں بڑی تعداد میڈیکل کے طلبہ کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں پارلیمنٹ سے ایک متحد آواز کا جانا ضروری ہے تاکہ عالمی سطح پر امن کے لیے مضبوط پیغام دیا جا سکے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔