خواتین کی بااختیاری پر مودی کے فریب کو 8 سال کی ماحولیاتی کارکن نے اجاگر کر دیا‘

کانگریس نے ٹوئٹ کے ساتھ ایک انگریزی اخبار کی خبر کا لنک شیئر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ منی پور کی آٹھ سال کی بچی لسپريا نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کا کام کاج سنبھالنے کی وزیر اعظم کی تجویز ٹھکرا دی ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: خواتین کی حفاظت، ’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘ اور خواتین کی بے روزگاری پر اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس نے مرکز میں حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے ہفتہ کے روز الزام لگایا کہ وہ خاتون کو بااختیار بنانے کے نام پر دکھاوا کر رہی ہے۔

کانگریس نے خواتین کا عالمی دن کے موقع پر ایک کے بعد ایک کئی ٹویٹ کرتے ہوئے مودی حکومت کو نشانہ بنایا۔ ایک ٹویٹ میں اس نے لکھا ہے ’’خواتین کو بااختیار بنانے کے سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی نمائشی محبت اور جھوٹ اور فریب کو ماحولیاتی کارکن لسپريا كانگجم نے اجاگر کر دیا ہے۔‘‘


وزیر اعظم کی پیشکش (ایک دن کے لئے ان کے سوشل میڈیا صفحے کا استعمال) ٹھکرانے کے بعد کانگریس نے کہا ہے کہ کسی ٹوئٹر مہم سے زیادہ ضروری ہے کہ اس کی بات سنی جائے۔ اس ٹویٹ کے ساتھ ہی پارٹی نے ایک انگریزی اخبار کی خبر کا لنک شیئر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ منی پور کی آٹھ سال کی بچی لسپريا نےسوشل میڈیا اکاؤنٹ کے کام کاج سنبھالنے کی وزیر اعظم کی تجویز ٹھکرا دی ہے۔

کانگریس نے الزام لگایا کہ یہ افواہ پھیلائی جا رہی ہے کہ بی جے پی خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے سرگرمی کے ساتھ کام کرنے والی پارٹی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت کے بجٹ میں متحدہ ترقی پسند اتحاد حکومت کے مقابلے میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاو "صرف ووٹ حاصل کرنے کا نعرہ تھا، لیکن جب اس پر عمل کرنے کی بات آئی تو بی جے پی بری طرح ناکام رہی۔ حکومت نے "بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاو" کا 56 فیصد حصہ تشہیر پر خرچ کیا ہے۔


کانگریس نے پوچھا کہ صرف دو سال میں خواتین کے خلاف جرائم میں 10.4 فیصد اضافہ کے باوجود خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزیر سمیت بی جے پی حکومت کے اعلی افسر، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ خواتین کے تحفظ کے معاملے میں پوری طرح خاموش تماشائی کیوں بنے رہے۔

کانگریس نے کہا کہ خواتین کے خلاف جرائم کی فہرست میں سب سے اوپر بی جے پی کے زیر اقتدار اترپردیش کا ہونا بی جے پی حکومت کی سچائی ہے۔زیادہ تر نربھیا فنڈ کا استعمال ہی نہیں کیا گیا ہے۔ ریاستوں کی طرف سے اب تک اس فنڈ کا صرف آٹھ فیصد فنڈز خرچ کیا گیا ہے۔ ایسے میں یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ بی جے پی ہمارے ملک میں خواتین کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔