وزیر اعظم نے یوگی راج میں فرضی انکاؤنٹر پر مہر لگائی

’رِہائی منچ‘ کے راجیو یادو کا کہنا ہے کہ وزیراعظم سب سے پہلے یہ بتائیں کہ قتل کرنے، فرقہ وارانہ فساد کرانے اور نفرت بھری تقریر کا مقدمہ جس یوگی آدتیہ ناتھ پر درج ہے انھیں وزیر اعلیٰ کس طرح بنایا گیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

آصف سلیمان

آئندہ لوک سبھا انتخابات کا بِگُل پھونکتے ہوئے دو دن کے پوروانچل دورے پر اعظم گڑھ پہنچے وزیر اعظم نریندر مودی نے ریاست میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ’انکاؤنٹر راج‘ پر اپنی مہر لگا دی ہے۔ اپنی تقریر میں انھوں نے وزیر اعلیٰ یوگی کی خوب تعریف کی اور ریاست میں ہو رہے جرائم پیشوں کے انکاؤنٹر اور پولس سیکورٹی میں حکومت کی ناک کے نیچے جیلوں کے اندر ہونے والے قتل کے لیے کھلے اسٹیج سے وزیر اعلیٰ یوگی کی تعریف کی۔ اعظم گڑھ میں 340 کلو میٹر طویل پوروانچل ایکسپریس وے کی سنگ بنیاد رکھنے کے بعد ایک جلسہ عام کو خطاب کرتے ہوئے اور ہنستے ہوئے مودی نے کہا کہ ’’ریاست کی بی جے پی حکومت میں آج بڑے بڑے جرائم پیشوں کی کیا حالت ہے یہ سب کو معلوم ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نے جرائم اور بدعنوانی پر کنٹرول لگا کر یو پی کی ترقی کے لیے سرمایہ لانے کام کیا ہے۔‘‘ مانا جا رہا ہے کہ وزیر اعلیٰ کا اشارہ حال ہی میں باغپت جیل کے اندر مارے گئے مافیا ڈان منا بجرنگی کی طرف تھا۔

اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں بی جے پی حکومت آنے کے بعد سے اچانک سے جرائم پیشوں کے انکاؤنٹر کی سیلاب سی آ گئی ہے۔ پولس کے ذریعہ کیے جانے والے اِن انکاؤنٹر اور ان کے طریقوں پر لگاتار سوال اٹھ رہے ہیں اور انھیں فرضی بتایا جا رہا ہے۔ یو پی پولس کے مطابق جون 2018 تک ریاست میں پولس انکاؤنٹر کے مبینہ طور پر 2174 معاملوں میں 61 لوگوں کی موت ہوئی ہے جب کہ 534 لوگ گولی لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔ پولس کے مطابق ان انکاؤنٹرس میں 5222 جرائم پیشے گرفتار بھی ہوئے ہیں۔ ریاست میں بڑی تعداد میں ہو رہے اس طرح کے انکاؤنٹر پر سوال اٹھاتے ہوئے پی یو سی ایل نے سپریم کورٹ میں عرضی بھی داخل کی تھی جس پر عدالت نے ریاستی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔

ریاست میں ہونے والے انکاؤنٹر کے کئی واقعات کی جانچ کرنے والی تنظیم ’رہائی منچ‘ سے منسلک راجیو یادو کا کہنا ہے کہ اعظم گڑھ میں وزیر اعظم نریندر مودی نے جو کہا ہے وہ مجرمانہ عمل میں ملوث پولس کی حوصلہ افزائی کرنے والا ہے۔ راجیو یادو نے کہا کہ ’’وزیر اعظم کا ریاست سے جرائم پیشوں کے صفایہ کی بات کرنا آنکھ میں دھول جھونکنے جیسا ہے۔ انھیں سب سے پہلے یہ بتانا چاہیے کہ قتل، قاتل کی کوش، بلوا کرنے، فرقہ وارانہ فساد کرانے اور نفرت بھری تقریر کرنے کا مقدمہ جس یوگی آدتیہ ناتھ پر درج ہے انھیں وزیر اعلیٰ عہدہ پر کس طرح بٹھا رکھا ہے۔‘‘ راجیو یادو نے مزید کہا کہ ریاست میں انکاؤنٹر کے بہانے بی جے پی حکومت او بی سی، دلتوں اور مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ ان معاملوں میں مارے گئے یا زخمی ہوئے زیادہ تر مبینہ جرائم پیشے انہی طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ حال ہی میں اعظم گڑھ میں مبینہ انکاؤنٹر میں مارے گئے مکیش راجبھر، جے ہند یادو اور رام جی پاسی اور پنکج یادو کے پیر میں گولی لگنے کے معاملے کی جانچ قومی انسانی حقوق کمیشن کر رہی ہے۔ اعظم گڑھ میں اب تک مبینہ انکاؤنٹرس میں 6 لوگوں کی موت ہو چکی ہے اور 37 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ ریاست میں جرائم پیشہ عناصر کے درمیان گینگوار میں بھی مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ حال ہی میں باغپت ضلع جیل کے اندر پوروانچل کے ہی جرائم پیشہ مانے جانے والے بابو بجرنگی کا گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ برسرعام جیل کے اندر انتہائی سیکورٹی والے علاقہ میں باہر سے ہتھیار پہنچنے اور اس سے قتل کیے جانے کے بعد کئی سوال اٹھنے لگے ہیں۔ ایسے میں سوال اٹھنے لازم ہیں کہ کیا وزیر اعظم جیسے آئینی عہدہ پر بیٹھ کر مودی مشتبہ انکاؤنٹرس اور قتل کو جائز نہیں ٹھہرا رہے ہیں! کیا وزیر اعظم کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جرائم پیشوں کا قتل جائز ہے؟ لیکن ہندوستان کا قانون تو کچھ اور ہی کہتا ہے۔ ایسے میں سنگین سوال یہ کھڑا ہوتا ہے کہ کیا وزیر اعظم کے اس طرح سے قتل کی حمایت کرنے سے فرضی انکاؤنٹر، گینگوار، قتل اور موب لنچنگ جیسے واقعات کو فروغ نہیں ملے گا۔

غور طلب ہے کہ ہفتہ کے روز اعظم گڑھ پہنچے وزیر اعظم نریندر مودی نے 340 کلو میٹر طویل پوروانچل ایکسپریس وے کی سنگ بنیاد رکھی۔ اس کے بعد انھوں نے وہاں جلسہ عام کو خطاب کیا۔ وزیر اعظم نے اپنی تقریر کی شروعات بھوجپوری زبان میں کی۔ وزیر اعظم کے اس پوروانچل دورے کو 2019 کی انتخابی مہم کی شروعات تصور کیا جا رہا ہے۔