کورونا سے پیدا تاریکی کو شکست دینے کے لیے 5 اپریل کو 9 منٹ تک جلائیں دیے: پی ایم مودی

پی ایم مودی نے 130 کروڑ ہندوستانیوں سے گزارش کی کہ 5 اپریل کی رات 9 بجے گھر کی سبھی بتیاں بند کر کے گھر کے دروازے پر یا بالکنی میں کھڑے رہ کر 9 منٹ کے لیے موم بتی، دیا، ٹارچ یا موبائل فلیش لائٹ جلائیں

تصویر بذریعہ ویڈیو گریب
تصویر بذریعہ ویڈیو گریب
user

قومی آوازبیورو

کورونا وائرس کو ختم کرنے کے لیے ہندوستان میں لاک ڈاؤن چل رہا ہے اور اس لاک ڈاؤن کے 9 دن گزر چکے ہیں۔ آج صبح 9 بجے اس سلسلے میں پی ایم مودی نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعہ پورے ملک کے سامنے کچھ باتیں رکھیں۔ اس درمیان انھوں نے کورونا کے خلاف لڑائی میں 130 کروڑ ہندوستانیوں سے مل رہے ساتھ کے لیے شکریہ ادا کیا اور لوگوں سے اپیل کی کہ اس مہلک وبا سے پیدا تاریکی کو شکست دینے کے لیے 5 اپریل یعنی اتوار کی رات 9 بجے اپنے گھروں کی سبھی لائٹیں 9 منٹ کے لیے بند کر دیں۔ بعد ازاں روشنی کی طاقت کا احساس کرانے اور اجتماعیت کا مظاہرہ کرنے کے لیے اپنے اپنے گھروں کے دروازوں یا بالکنی میں کھڑے ہو کر موم بتی، دیا، ٹارچ یا فلیش لائٹ جلائیں۔ پی ایم مودی نے تقریباً 12 منٹ کےا پنے ویڈیو میں جو باتیں کہیں وہ لفظ بہ لفظ 'قومی آواز' کے قارئین کے لیے پیش خدمت ہے۔

میرے پیارے ملک کے باشندو! نمسکار

کورونا کو ختم کرنے کے لیے لاک ڈاؤن کے آج 9 دن ہو رہے ہیں۔ اس درمیان آپ سبھی نے جس طرح ڈسپلن اور خلوص کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔ حکومت، انتظامیہ اور عوام نے مل کر اس حالت کو بہتر طریقے سے سنبھالنے کی پوری کوشش کی ہے۔ آپ نے جس طرح 22 مارچ (اتوار) کے دن لڑائی لڑنے والے ہر کسی کا شکریہ ادا کیا ہے۔ وہ بھی آج سبھی ملک کے لیے ایک مثال بن گیا۔ آج کئی ملک اس کو دہرا رہے ہیں۔ جنتا کرفیو ہو، گھنٹی اور تھالی بجانے کا پروگرام ہو، انھوں نے اس چیلنجنگ وقت میں ملک کو اس کی اجتماعی قوت کا احساس کرایا۔ یہ جذبہ سامنے آیا کہ ملک ایک ہو کر کورونا کے خلاف لڑائی لڑ سکتا ہے۔ اب لاک ڈاؤن کے وقت میں ملک کی، آپ سبھی کی یہ اجتماعیت ظاہر ہو رہی ہے۔ آج جب ملک کے کروڑوں لوگ گھروں میں ہیں، تب کسی کو بھی لگ سکتا ہے کہ وہ تنہا کیا کرے گا۔ کچھ لوگ یہ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ اتنی بڑی لڑائی کو وہ تنہا کیسے لڑ پائیں گے؟ یہ سوال بھی ذہن میں آتے ہوں گے کہ کتنے دن ایسے اور کاٹنے ہوں گے؟

ساتھیو یہ لاک ڈاؤن کا وقت ضرور ہے۔ ہم اپنے اپنے گھروں میں ضرور ہیں۔ لیکن ہم میں سے کوئی تنہا نہیں ہے۔ 130 کروڑ ملک کےباشندوں کی اجتماعی قوت ہر شخص کے ساتھ ہے۔ ہر شخص کی طاقت ہے۔ وقت وقت پر ملکی باشندوں کی اجتماعی قوت کی عظمت کا احساس کرنا ضروری ہے۔

ساتھیو، ہمارے یہاں مانا جاتا ہے کہ عوام ایشور کی ہی ایک شکل ہوتی ہے۔ اس لیے جب ملک اتنی بڑی لڑائی لڑ رہا ہو تو ایسی لڑائی میں بار بار عوام جیسی بڑی طاقت سے بات چیت کرتے رہنا چاہیے۔ یہ بات چیت ہمیں طاقت دیتا ہے، ہدف دیتا ہے اور اس کے حصول کے لیے توانائی بھی دیتا ہے۔ ہماری رہ کو مزید واضح کرتا ہے۔

ساتھیو، کورونا وبا سے پھیلے تاریکی کے درمیان لگاتار روشنی کی طرف جانا ہے۔ جو اس کورونا بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہیں، ہمارے غریب بھائی بہن، انھیں کورونا بحران سے پیدا ہوئی مایوسی سے امید کی طرف لے جانا ہے۔ اس کورونا بحران سے جو تاریکی اور غیر یقینی پیدا ہوئی ہے اسے ختم کر کے ہمیں روشنی اور یقین کی طرف بڑھنا ہے۔ اس تاریک کورونا بحران کو شکست دینے کے لیے ہمیں روشنی کی طاقت کوچہار جانب پھیلانا ہے۔ اس لیے اس اتوار یعنی 5 اپریل کو ہم سب کو مل کر کورونا کے بحران کی تاریکی کو چیلنج پیش کرنا ہے۔ اسے روشنی کی طاقت دکھانی ہے۔ اس 5 اپریل کو ہمیں 130 کروڑ ملکی باشندوں کی عظیم طاقت کو ظاہر کرنا ہے۔ 130 کروڑ باشندوں کے عزائم کو نئی اونچائیوں پر لے جانا ہے۔ 5 اپریل، اتوار کو رات 9 بجے میں آپ سب کے 9 منٹ چاہتا ہوں۔

5 اپریل، اتوار رات 9 بجے گھر کی سبھی بتیاں بند کر کے گھر کے دروازے پر یا بالکنی میں کھڑے رہ کر 9 منٹ کے لیے موم بتی، دیا، ٹارچ یا موبائل فلیش لائٹ جلائیں۔ اور اس وقت اگر گھر کی سبھی لائٹیں بند کریں گے۔ چاروں طرف جب ہر شخص ایک ایک دیا جلائے گا تو روشنی کی اس عظیم طاقت کا احساس ہوگا جس میں ایک ہی مقصد سے ہم سب لڑ رہے ہیں، یہ ظاہر ہوگا۔ اس روشنی میں، اس اجالے میں ہم اپنے ذہن میں یہ عزم کریں کہ ہم تنہا نہیں ہیں۔ کوئی بھی تنہا نہیں ہے۔ 130 کروڑ ملک کے باشندے، ایک ہی عزم کے ساتھ کھڑا ہے۔

ساتھیو، میری ایک اور گزارش ہے کہ اس انعقاد کے وقت کسی کو بھی کہیں پر بھی اکٹھا نہیں ہونا ہے۔ راستوں میں، گلیوں میں یا محلوں میں نہیں جانا ہے۔ اپنے گھر کے دروازے، بالکنی سے ہی اسے کرنا ہے۔ سوشل ڈسٹنسنگ کی لکشمن ریکھا کو کبھی بھی لانگھنا نہیں ہے۔ سوشل ڈسٹنسنگ کو کسی بھی حالت میں توڑنا نہیں ہے۔ کورونا کی زنجیر توڑنے کا یہی بہتر علاج ہے۔ اس لیے 5 اپریل، اتوار کو رات 9 بجے کچھ لمحہ تنہا بیٹھ کر مادر ہند کے بارے میں سوچیے، 130 کروڑ ہندوستانیوں کے بارے میں سوچیے، 130 کروڑ ملکی باشندوں کی اجتماعیت، اس عظیم طاقت کا احساس کیجیے۔ یہ ہمیں اس مشکل وقت سے لڑنے کی طاقت دے گا اور جیتنے کا حوصلہ بھی۔

ہمارے جوش، ہمارے عزم سے بڑھ کر دنیا میں کوئی طاقت نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جو ہم اس طاقت سے حاصل نہ کر پائیں۔ آئیے، ساتھ آ کر، ساتھ مل کر کورونا کو شکست دیں۔ ہندوستان کو فتحیاب کریں۔

بہت بہت شکریہ۔

Published: 3 Apr 2020, 9:47 AM