’پی ایم مودی، مطلب پرمیشن مانگو مودی‘، کانگریس نے وزیر اعظم مودی پر چلائے طنز کے تیر
مودی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ جب ملک آزاد نہیں تھا تو ان کے آبا و اجداد انگریزوں کے سامنے رحم کی عرضی لکھتے تھے۔ آج نریندر مودی اجازت کے لیے چٹھی لکھتے پھر رہے ہیں۔

کانگریس نے پی ایم مودی سے متعلق ایک خبر پر آج طنزیہ انداز میں زوردار حملے کیے ہیں۔ دراصل خبر رساں ایجنسی رائٹرس نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان اب امریکہ سے امید کر رہا ہے کہ روس سے تیل خریداری معاملہ میں اسے رعایت دی جائے۔ اس معاملہ میں کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر ایک طنزیہ ویڈیو جاری کی ہے، جس میں ’پی ایم مودی‘ کا فُل فارم ’پرمیشن مانگو مودی‘ بتایا گیا ہے۔ اس ویڈیو کا کیپشن ہی دیا گیا ہے ’’پی ایم مودی مطلب: ’پرمیشن مانگو‘ مودی‘‘۔
اس ویڈیو میں ایک اینکر مسکراہٹ بھرے چہرے کے ساتھ کہتا ہے ’’پی ایم مودی کا فُل فارم فارم پتہ ہے آپ کو؟ ’پرمیشن مانگو مودی۔‘‘ اس کے بعد بتاتا ہے کہ ’’مودی حکومت روس سے تیل خریدنا جاری رکھنے کے لیے امریکہ کی رعایت کا انتظار کر رہی ہے۔ جب ملک آزاد نہیں تھا تو ان کے آبا و اجداد انگریزوں کے سامنے رحم کی عرضی لکھتے تھے۔ آج نریندر مودی اجازت مانگنے کے لیے چٹھی لکھتے پھر رہے ہیں۔‘‘
امریکی صدر ٹرمپ کے لیے پی ایم مودی کے ذریعہ انتخابی تشہیر کیے جانے کا ذکر بھی اس ویڈیو میں کیا گیا ہے۔ اینکر کہتا ہے کہ ’’ابکی بار ٹرمپ سرکار بولنے امریکہ کیوں گئے تھے؟ یہیں بول دیتے۔ آپ کو کیوں بٹھایا ہے عوام نے کرسی پر، جب آپ منھ بھی ٹرمپ سے ہی پوچھ کر دھوتے ہیں۔‘‘ آگے کہا جاتا ہے کہ ’’پلیز سر، کیا میں آپ سے مل سکتا ہوں، سر؟ بول کر کونے میں کھڑے رہتے ہیں۔ پھر جو ٹرمپ کہتا ہے، وہی مودی کرتے ہیں۔‘‘
اس ویڈیو میں ٹرمپ اور مودی کی بات چیت کا ایک حصہ بھی طنزیہ انداز میں پیش کیا گیا ہے، جو اس طرح ہے:
ٹرمپ: روس سے تیل مت لو۔
مودی: یس سر۔
ٹرمپ: وینزویلا سے خریدو۔
مودی: یس سر۔
ٹرمپ: چابہار پورٹ چھوڑ دو۔
مودی: یس سر۔
ٹرمپ: جنگ بندی کر دو۔
مودی: یس سر۔
ٹرمپ: اچھا اب روس سے تیل لے لو۔
مودی: یس سر۔
پھر سوال کیا جاتا ہے کہ ’’کون چلا رہا آپ کی خارجہ پالیسی؟ کس کے اشاروں پر چل رہی ہے حکومت؟‘‘ ساتھ ہی اینکر نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایسا کمزور وزیر اعظم، اتنا کمپرومائزڈ پی ایم کہ اپنے مفادات کی حفاظت کے لیے ملک کا مفاد داؤ پر لگا دیا۔‘‘ ویڈیو کے آخر میں یہ طنزیہ شعر پیش کیا گیا ہے:
بغیر اجازت کے ٹرمپ سے پانی نہیں پئیں نریندر
یس سر، یس سر بول کے پھٹ سے کریں سرینڈر