وارانسی میں بھی پی ایم مودی نظر آئے پریشان، مذہب کے نام پر سیاست جاری!

پی ایم مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے یہاں گائے اور گوبر جیسی دولت کی بات کرنے کو کچھ لوگوں نے گناہ بنا دیا ہے، گائے کچھ لوگوں کے لیے گناہ ہو سکتی ہے، ہمارے لیے گائے ماتا ہے۔

پی ایم مودی، تصویر ٹوئٹر
پی ایم مودی، تصویر ٹوئٹر
user

قومی آوازبیورو

وزیر اعظم نریندر مودی نے 23 دسمبر کو وارانسی کے کرکھیاؤں میں 870.16 کروڑ سے زیادہ لاگت والے 22 ترقیاتی منصوبوں کی رونمائی کی، اور 1225.51 کروڑ روپے کے پانچ منصوبوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔ گویا کہ تقریباً 2100 کروڑ روپے پر مبنی 27 پروجیکٹ کا اعلان وارانسی باشندوں کے لیے ہوا۔ اس دوران پی ایم مودی ایک بار پھر مذہب کے نام پر سیاست کرتے ہوئے نظر آئے۔ انھوں نے اپنے خطاب کی شروعات ’مہادیو‘ کو یاد کرتے ہوئے کی، اور پھر آگے بڑھے تو گائے کو کچھ لوگوں کے لیے ’گناہ‘ اور اپنے لیے ماتا کہہ کر ہندو ووٹروں کو متاثر کرنے کی کوشش میں منہمک نظر آئے۔

یو پی میں ایک طرف سماجوادی پارٹی کی ریلیوں میں زبردست بھیڑ، اور دوسری طرف خواتین کا کانگریس کی طرف بڑھتا رجحان بی جے پی لیڈروں کو کافی پریشان کر رہا ہے۔ وارانسی کے خطاب میں پی ایم مودی کی یہی پریشانی دیکھنے کو ملی جب وہ ’گائے‘ اور ’گناہ‘ جیسی باتیں کر رہے تھے۔ وارانسی میں اپنے خطاب کے دوران پی ایم مودی نے ملک کے سابق وزیر اعظم چودھری چرن سنگھ کو یاد کیا اور پھر کہا کہ ’’ہمارے یہاں گائے اور گوبر جیسی دولت کی بات کرنے کو کچھ لوگوں نے گناہ بنا دیا ہے۔ گائے کچھ لوگوں کے لیے گناہ ہو سکتی ہے، ہمارے لیے گائے ماتا ہے۔‘‘ پی ایم مودی آگے کہتے ہیں کہ ’’گائے کا مذاق اڑانے والے لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ ملک کے 8 کروڑ لوگوں کی روزی روٹی اسی مویشی سے چلتی ہے۔ ہندوستان ہر سال ساڑھے آٹھ لاکھ کروڑ کے دودھ کا پروڈکشن کرتا ہے۔‘‘


دراصل وارانسی میں پی ایم مودی نے بناس ڈیری پروجیکٹ کی بھی رونمائی کی اور بتایا کہ اس سے پوروانچل کے تقریباً 6 اضلاع کے لوگوں کو نہ صرف ملازمت ملے گی بلکہ کسانوں اور مویشی پروروں کو بھی بہت فائدہ ہوگا۔ اسی سے متعلق بات کرتے ہوئے وہ ایک طبقہ کو تنقید کا نشانہ بنانے سے بھی نہیں چوکے۔ ترقیاتی پروجیکٹس کا تذکرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’آج یو پی کے لاکھوں لوگوں کو ان کے گھروں کے دستاویز بھی سونپے گئے ہیں۔ 1500 کروڑ سے زیادہ کے پروجیکٹ کی رونمائی ہوئی اور سنگ بنیاد رکھا گیا۔ ان منصوبوں سے وارانسی کی تصویر بدل جائے گی۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔