سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے جاپان پہنچے وزیر اعظم مودی، ائیرپورٹ پر پُرتپاک استقبال

وزیر اعظم نریندر مودی جاپان پہنچے اور ایکس پر تصاویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ وہ جاپانی وزیر اعظم اور کاروباری رہنماؤں سے ملاقات کے منتظر ہیں۔ انہوں نے ٹوکیو میں ہندوستانی برادری کے جذبے کو بھی سراہا

<div class="paragraphs"><p>جاپان دورے پر وزیر اعظم مودی / بشکریہ ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ٹوکیو: وزیر اعظم نریندر مودی اپنے دو ملکی دورے کے پہلے مرحلے میں جاپان پہنچ گئے، جہاں ٹوکیو کے ہانیدا ائیرپورٹ پر ان کا پُرتپاک استقبال کیا گیا۔ روانگی سے قبل مودی نے کہا تھا کہ یہ دورہ ہندوستان کے قومی مفادات کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ خطے میں امن، استحکام اور تعاون کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔

وزیر اعظم نے جاپان پہنچنے پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’ میں ٹوکیو پہنچ گیا ہوں۔ جیسے جیسے ہندوستان اور جاپان اپنے ترقیاتی تعاون کو مزید مضبوط کر رہے ہیں، میں اپنے جاپانی ہم منصب شیگرو ایشیبا اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کا منتظر ہوں۔ یہ دورہ موجودہ شراکت داری کو گہرا کرنے اور تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔‘‘

وزیر اعظم مودی نے اپنی ایک اور پوسٹ میں جاپان میں مقیم ہندوستانی برادری کے جذبے اور محبت کو سراہا۔ انہوں نے کہا، ’’ٹوکیو میں ہندوستانی کمیونٹی کی گرمجوشی اور محبت نے دل کو چھو لیا۔ جاپانی معاشرے میں مثبت کردار ادا کرتے ہوئے اپنی تہذیبی جڑوں کو محفوظ رکھنے کا ان کا عزم قابلِ ستائش ہے۔” وزیر اعظم نے اس موقع پر ہندوستانی برادری کو ہند اور جاپان کے درمیان تعلقات کا مضبوط پل قرار دیا۔

اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم مودی آج جاپان کے نمایاں کاروباری رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے۔ اس بات چیت میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر توجہ دی جائے گی۔ خاص طور پر مصنوعی ذہانت (اے آئی)، سیمی کنڈکٹرز اور انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ جیسے شعبوں میں تعاون کو نئی جہت دینے پر زور ہوگا۔ مودی نے کہا کہ اس ملاقات کا مقصد ’’ہند-جاپان تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات میں نئی توانائی شامل کرنا‘‘ ہے۔


وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ جاپان کا یہ دورہ صرف اقتصادی اور تکنیکی تعاون تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان صدیوں پرانے تہذیبی اور ثقافتی رشتوں کو مزید گہرا کرنے کا بھی ایک موقع ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ گیارہ برسوں میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں مسلسل نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور اب انہیں اگلے درجے تک لے جانے کا وقت ہے۔

جاپان میں دو روزہ قیام کے بعد وزیر اعظم مودی چین جائیں گے، جہاں وہ 31 اگست اور یکم ستمبر کو تِیانجِن میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سالانہ سربراہی اجلاس میں شریک ہوں گے۔ مودی نے کہا ہے کہ ’’ہندوستان ایس سی او کا سرگرم اور مثبت کردار ادا کرنے والا رکن ہے، اور اپنے دورِ رکنیت میں صحت، جدت اور ثقافتی تبادلے جیسے شعبوں میں نئی پہل کی ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس اجلاس کے دوران چین کے صدر شی جن پنگ اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کے منتظر ہیں۔ ان کے بقول، یہ ملاقاتیں خطے میں تعاون کو گہرا کرنے اور عالمی امن کو فروغ دینے کے لئے اہم ثابت ہوں گی۔