وزیراعظم اور وزیر داخلہ پورے سیشن میں ایوان سے غیر حاضر، پہلی بار ایسا ہوا: کانگریس

کانگریس نے امت شاہ کی پارلیمنٹ میں غیر حاضری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ 1952 کے بعد پہلی بار وزیراعظم اور وزیر داخلہ پورے سیشن میں ایوان میں موجود نہیں رہے

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش / آئی اے این ایس
i

نئی دہلی: کانگریس نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مسلسل غیر حاضری کو لے کر حکومت پر سخت نشانہ لگایا۔ کانگریس نے دعویٰ کیا کہ 1952 کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے جب کسی مکمل پارلیمانی سیشن کے دوران نہ وزیراعظم اور نہ ہی وزیر داخلہ لوک سبھا یا راجیہ سبھا میں موجود رہے۔

کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ 1952 کے بعد پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ پورے سیشن کے دوران نہ وزیراعظم اور نہ ہی وزیر داخلہ لوک سبھا یا راجیہ سبھا میں موجود رہے۔ انہوں نے لوک سبھا میں کانگریس کے نائب لیڈر گورو گوگوئی کی ایک پوسٹ بھی شیئر کی، جس میں وزیر داخلہ امت شاہ کی ایوان میں غیر حاضری پر سوال اٹھایا گیا تھا۔

گورو گوگوئی نے سوال کیا کہ وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں تعلیم اور طلبہ کے احتجاج سے متعلق دو روز تک جاری رہنے والی بحث سے خود کو دور کیوں رکھا اور وہ ایوان سے غیر حاضر کیوں رہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وزیر داخلہ امت شاہ لوک سبھا میں آنے سے پہلے ایک اور بحث چاہتے ہیں۔

کانگریس لیڈر نے کہا کہ اپوزیشن پہلے ہی یہ واضح کر چکا ہے کہ محض لیکچر دینے کا وقت گزر چکا ہے۔ ان کے مطابق وزیر داخلہ کو دہلی میں نوجوانوں کے خلاف پولیس کارروائی اور بہار میں اے کے-47 کے مبینہ استعمال جیسے معاملات پر پارلیمنٹ میں جواب دینا چاہیے۔


گورو گوگوئی نے کہا کہ وزیر داخلہ امت شاہ کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں موجود رہنا چاہیے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان معاملات پر ایوان میں جواب دے جنہیں اپوزیشن مسلسل اٹھا رہا ہے۔

یہ تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب وزیر داخلہ امت شاہ نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی پر اٹھنے والے سوالات کے درمیان کہا کہ وہ پارلیمنٹ میں ہر بحث کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ اپوزیشن ایوان کو چلنے دے۔ شاہ کے اس بیان پر کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔

راہل گاندھی نے کہا تھا کہ نوجوانوں کو وزیر داخلہ کا لیکچر نہیں چاہیے، بلکہ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ طلبہ کے خلاف کارروائی کس کے حکم پر کی گئی۔ انہوں نے پولیس کی جانب سے احتجاج کرنے والے طلبہ پر پیلیٹ گن کے استعمال اور کیل لگی لاٹھیوں سے مبینہ پٹائی کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت سے جواب طلب کیا تھا۔

کانگریس نے اسی پس منظر میں امت شاہ کی پارلیمنٹ میں غیر حاضری کو سیاسی طور پر اہم قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر داخلہ ان مسائل پر ایوان میں براہ راست جواب دیں اور اپوزیشن کے سوالات کا سامنا کریں۔