عقیدت سے کھلواڑ! تروپتی بالا جی مندر پرساد گھپلا معاملے میں بیکانیر پہنچی ای ڈی، کاروباری نیٹورک پر کسا شکنجہ
مرکزی تفتیشی ایجنسی کی جانچ کا مرکز وہ مبینہ کاروبار ہے جس میں تقریباً 300 روپئے فی کلو قیمت والی ’شویتا گھی‘ تروپتی تک پہنچتے پہنچتے 1200 روپئے فی کلو قیمت میں فروخت کی گئی۔

ملک کے سب سے مشہور مذہبی مقامات میں شامل تروپتی بالاجی مندر کے لڈو پرسادم میں استعمال ہوئے گھی کے حوالے سے پیدا تنازع کی جانچ اب راجستھان کے بیکانیر تک پہنچ گئی ہے۔ مبینہ ملاوٹی گھی اور مشتبہ سپلائی چین کی جانچ میں مصروف انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی خصوصی ٹیم بدھ کے روز بیکانیر پہنچی اور ایک ادارے پر دستاویزات اور مالی لین دین کی گہرائی سے جانچ شروع کر دی۔
حیدر آباد سے آئی ای ڈی ٹیم کاروباری ریکارڈ، بینکنگ ٹرانزیکشن اور سپلائی نیٹورک کی کڑیوں کی جانچ کر رہی ہے۔ جانچ کے سلسلے میں پورے علاقے میں دن بھر ہلچل رہی اور بڑی تعداد میں لوگ موقع واردات کے آس پاس جمع رہے۔ ذرائع کے مطابق جانچ کا مرکز وہ مبینہ کاروبار ہے جس میں تقریباً 300 روپئے فی کلو قیمت والی ’شویتا گھی‘ تروپتی تک پہنچتے پہنچتے 1200 روپئے فی کلو قیمت میں فروخت کی گئی۔
ایجنسیاں یہ پتا لگانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ آخر اس گھی کی سپلائی کس نیٹورک کے ذریعہ ہوئی اور مندر کے پرسادم کے لیے سپلائی کا راستہ کس نے تیار کیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایک ہی خاندان کے 3 بھائیوں سے متعلق اس ’شویتا گھی‘ کاروبار میں ایک ملزم فرار ہے جبکہ دوسرا پہلے سے جانچ ایجنسیوں کی حراست میں ہے۔ تیسرے بھائی کی کاروباری سرگرمیاں بھی جانچ کے دائرے میں ہیں۔ ای ڈی اب مالی لین دین اور منافع کی پوری چین کی جانچ کر رہی ہے۔
اس سے پہلے معاملے کی جانچ کر رہی خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے بھی بیکانیر میں کارروائی کرتے ہوئے کوئلہ گلی واقع ایک فرم سے گھی کے نمونے حاصل کئے تھے۔ جانچ ایجنسیوں کو شک ہے کہ تروپتی بھیجے گئے کچھ کنسائنمنٹ کا تعلق بیکانیر سے ہو رہی سپلائی سے ہو سکتا ہے۔ حالانکہ ای ڈی نے ابھی تک سرکاری طور سے جانچ کے دائرے یا کارروائی کی وجوہات کا انکشاف نہیں کیا ہے لیکن جس طرح مالی ریکارڈ اور کاروباری دستاویزات کی جانچ کی جا رہی ہے، اس سے صاف ہے کہ معاملہ اب صرف گھی کے معیار تک محدود نہیں رہ گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ عقیدت سے وابستہ پرساد کی سپلائی میں آخر کس سطح پر کھیل ہوا اور کروڑوں روپئے کے اس مبینہ نیٹورک میں کون کون شامل ہیں۔ اب سبھی کی نظریں ای ڈی کی جانچ رپورٹ پر مرکوز ہیں جو اس پورے معاملے کے کئی بڑے راز کھول سکتی ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
