آزاد ہند فوج کے ’کیپٹن عباس علی‘ کی تصویر لال قلعہ میں واقع میوزیم کی زینت

آزاد ہند فوج میں کپتان رہے کیپٹن عباس علی کی تصویر قومی راجدھانی، دہلی میں واقع لال قلعہ میں سبھاش چندر بوس اور آزاد ہند فوج کی یاد میں بنائے گئے میوزیم میں نمایاں طور سے لگائی گئی ہے

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

یو این آئی

نئی دہلی: نیتاجی سبھاش چندر بوس کی آزاد ہند فوج (آئی این اے) میں کپتان رہے اورمجاہد جنگ آزادی کیپٹن عباس علی کی تصویر قومی راجدھانی، دہلی میں واقع لال قلعہ میں سبھاش چندر بوس اور آزاد ہند فوج کی یاد میں بنائے گئے میوزیم میں نمایاں طور سے لگائی گئی ہے۔

نیتاجی کی 122ویں سالگرہ کے موقع پر اس سال 23 جنوری کو وزیراعظم نریندر مودی نے دہلی میں لال قلعہ کے اندر بنائے گئے اس میوزیم کا افتتاح کیا تھا۔ اس وقت کہا گیا تھا کہ اس میوزیم میں سبھاش چندر بوس، ان کے ساتھیوں اور آزاد ہند فوج سے جڑی چیزیں رکھی جائیں گی۔

3جنوری 1920 میں اترپردیش کے بلندشہر ضلع میں قلندر گڑھی، کھرجا میں پیدا ہونے والے کپتان عباس علی بچپن سے ہی سردار بھگت سنگھ کے انقلابی افکار سے متاثر تھے۔ وہ پہلے نوجوان بھارت سبھا اور پھر اسٹوڈنٹ فیڈریشن کے رکن بنے۔ 1939 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے انٹرمیڈیٹ کرنے کے بعد آپ دوسری عالمی جنگ کے دوران برطانوی فوج میں بھرتی ہو گئے اور 1943 میں جاپان نے انہیں ملائشیا میں جنگی قیدی بنالیا۔

اسی دوران آپ نیتاجی سبھاش چندر بوس کے ذریعہ بنائی گئی آزاد ہند فوج میں شامل ہوگئے اور ملک کی آزادی کے لئے لڑائی لڑی، 1945 میں جاپان کی شکست کے بعد برطانوی فوج نے انہیں امپھال میں جنگی قیدی بنالیا۔ انہیں ملتان کے قلعہ میں رکھا گیا اور پھرکورٹ مارشل کیا گیا اور سزائے موت سنائی گئی لیکن 1946 میں عبوری حکومت بن جانے اور ملک آزاد ہونے کے اعلان کی وجہ سے رہا کردیئے گئے۔

آزاد ہند فوج کے ’کیپٹن عباس علی‘ کی تصویر لال قلعہ میں واقع میوزیم کی زینت

ملک آزاد ہوجانے کےبعد 1948 میں کیپٹن عباس علی، آچاریہ نریندر دیو، جے پرکاش نارائن اور ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کی قیادت میں سوشلسٹ پارٹی میں شامل ہوگئے اور 1966 میں اترپردیش یونائٹیڈ سوشلسٹ پارٹی اور 1973 میں سوشلسٹ پارٹی، اترپردیش کے وزیر مملکت منتخب ہوئے۔ 1967 میں اترپردیش میں پہلے جوائنٹ لیجس لیچر پارٹی اور پھر چودھری چرن سنگھ کی قیادت میں پہلی غیر کانگریسی حکومت تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کیپٹن عباس علی ایمرجنسی کے دوران 77۔1975 میں 19 ماہ تک بلند شہر، بریلی اور نینی سینٹرل جیل میں ڈی آئی آر اور میسا کے تحت قید رہے۔ 1977 میں جنتا پارٹی کی تشکیل کے بعد سب سے پہلے ریاستی صدر بنائے گئے اور 1978 میں 6 برسوں کے لئے لیجس لیٹو کونسل کے لئے مقرر ہوئے۔

کیپٹن عباس علی زندگی بھر سماجی طور سے استحصال کا شکار محروم، غریب اور سماج سے کٹے ہوئے رہنے والے لوگوں کے درمیان کام کرتے رہے اور آزاد ہندوستان میں غریب، کسان اور مزدوروں کے حق کے لڑائی لڑتے ہوئے اور سول نافرمانی کرتے ہوئے 50 سے زیادہ مرتبہ مختلف عوام تحریکوں میں جیل گئے۔ سال 2009 میں ان کی آٹو بائیگرافی ’نہ رہوں کسی کا دست نگر‘ راج کمل پرکاش،دہلی نے شائع کیا تھا۔ 94 برس کی عمرمیں وہ 11 اکتوبر 2014 کو اس جہاں فانی سے کوچ کرگئے۔

Published: 8 Nov 2019, 6:50 PM