پھلواری شریف تشدد: عامر حنظلہ کو ہندووادی تنظیموں نے کیا قتل

پھلواری شریف پولیس حکام کے مطابق ’ہندو پتر تنظیم‘ کے کارکن ناگیش سمراٹ (23 سال) اور ہندو سماج سنگٹھن کے کارکن وکاس کمار نے (21 سال) کو عامر حنظلہ (18 سال) کے قتل معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے

عامر حنظلہ کی فائل فوٹو
عامر حنظلہ کی فائل فوٹو
user

قومی آوازبیورو

بہار میں شہریت ترمیم قانون (CAA) کے خلاف بلائے گئے آر جے ڈی کے بند کے دوران ایک مسلمان نوجوانوں کو قتل کر دیا گیا تھا، اب پولیس نے اس قتل کے معاملے میں ہندووادی تنظیموں سے وابستہ لوگوں سمیت 6 افراد کو گرفتار کیا ہے، مسلم نوجوان حنظلہ کا گزشتہ 21 دسمبر کو قتل ہوا تھا اور اس 10 دن بعد اس کی لاش برآمد ہوئی تھی۔

پٹنہ کی پھلواری شریف پولیس حکام کے مطابق ’ہندو پتر تنظیم‘ کے کارکن ناگیش سمراٹ (23 سال) اور ہندو سماج سنگٹھن کے کارکن وکاس کمار (21 سال) کو عامر حنظلہ (18 سال) کے قتل معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے، اس کے علاوہ دیپک مہتو، چھوٹو مہتو، منوج مہتو عرف دھیلوا اور رئیس پاسوان کو بھی پولیس نے قتل کے معاملے میں گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ تمام افراد مجرم ہیں۔

پولیس کے مطابق عامر حنظلہ بیگ بنانے کی کمپنی میں کام کرتا تھا، پھلواری شریف پولیس اسٹیشن کے انچارج رفیق الرحمن نے انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ "ہماری جانچ میں پتہ چلا ہے کہ جب شہریت ترمیم قانون کی مخالفت کر رہے مظاہرین کو پولیس نے منتشر کیا تو مقتول عامر حنظلہ بھی مظاہرہ چھوڑ کر بھاگا، لیکن کچھ لڑکوں نے اسے سنگت گلی میں پکڑ لیا، پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اینٹوں اور نوکیلی چیزوں سے حملہ کر عامر حنظلہ کو قتل کیا گیا، عامر کے سر میں چوٹ جیسے نشانات ملے ہیں، وہیں اس کے جسم پر بھی کٹ کے نشانات پائے گئے ہیں، اس کے پیٹ میں بھی کافی خون جمع پایا گیا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس کو اندرونی بليڈگ ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال 21 دسمبرکو CAA اور NRC کے خلاف بہار بند کے موقع پر پٹنہ کے پھلواری شریف میں ایک انتہائی ناخوشگوار واقعہ رو نما ہوا تھا، جس میں سہیل عباسی صاحب کے صاحبزادے عامر حنظلہ لا پتہ ہو گئے تھے، پھر ان کی لاش گزشتہ 30 دسمبر کو رات دس بجے انتہائی خراب حالت میں ملی۔