’فائزر کی ویکسین اومیکرون کے خلاف 30 گنا کم موثر ہو سکتی ہے‘

سائنسدانوں نے بتایا کہ دس افراد کے خون کے نمونوں کا استعمال کرتے ہوئے نئی تحقیق کے مطابق فائزر ویکسین کی دو خوراکیں اومیکرون کے خلاف بہت کم موثر ثابت ہوئی ہیں۔

فائزر ویکسین، تصویر آئی اے این ایس
فائزر ویکسین، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

بیجنگ: بایو ٹیک کی ویکسین اومیکرون ویرینٹ کے خلاف کورونا وائرس کی دوسری قسم کے مقابلے میں 30 گنا کم موثر ہو سکتی ہے۔ ہانگ کانگ یونیورسٹی اور چینی یونیورسٹی کے محققین نے کہا ’’اومیکرون ویرینٹ بایو ٹیک کے ذریعہ تیار وبائی قوت مدافعت والی صلاحیت کم از کم 32 گنا قوت مدافعت کو کم کرتا ہے‘‘۔

سائنسدانوں نے بتایا کہ دس افراد کے خون کے نمونوں کا استعمال کرتے ہوئے نئی تحقیق کے مطابق فائزر ویکسین کی دو خوراکیں اومیکرون کے خلاف بہت کم موثر ثابت ہوئی ہیں۔ تاہم بوسٹر کی خوراک کورونا کی اس شکل کے خلاف کافی تحفظ فراہم کرتی ہے۔ محققین اب اومیکرون کے خلاف کورونا ویکسین کی تاثیر کی جانچ رہے ہیں۔


اس ماہ کے شروع میں اسرائیل کے شیبا میڈیکل سینٹر کی طرف سے کی گئی ایک تحقیق میں پتا چلا ہے کہ فائزر کی بوسٹر خوراک میں اومیکرون کے خلاف کورونا کے ڈیلٹا ویرینٹ سے تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت چار گنا کم ہے۔ شیبا کی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ فائزر ویکسین کی دو خوراکوں کے علاوہ بوسٹر ڈوز لینے والا بھی کووڈ 19 کی اومیکرون ویرینٹ سے متاثر ہو سکتا ہے۔ ایک شخص نے فائزر ویکسین کی صرف دو خوراکیں لی ہیں، اسے اومیکرون سے کوئی تحفظ فراہم نہیں ہوتا ہے۔

وہیں میڈ آر ایکزیو پلیٹ فارم پر شائع ہونے والی ایک اور تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ فائزر کی دو خوراکیں کورونا وائرس کی اومیکرون ویرینٹ کے خلاف محض 22.5 فیصد ہی تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ فائزر کے چیف ایگزیکٹیو البرٹ بورلا نے رواں ماہ کہا تھا کہ ان کی کمپنی کو یہ جاننے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں کہ آیا اومیکرون ویرینٹ کے لیے نئی ویکسین کی ضرورت ہوگی اور یہ کہ یہ خوراک مارچ تک دستیاب ہونے کا امکان ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔