پٹرول پمپ سے اب بڑی مقدار میں پٹرول-ڈیزل کی نہیں ہو پائے گی خریداری، 90 دنوں کے لیے لگی روک
دہلی میں پٹرول پمپ پر ڈیزل کی قیمت 95.20 روپے لیٹر ہے، جبکہ تھوک خریداروں کے لیے اس کی قیمت 134.50 روپے لیٹر ہے۔ اس فرق کی وجہ سے بڑی کمپنیاں مارکیٹ کے بجائے پٹرول پمپوں سے سستا ڈیزل خرید رہی تھیں۔

مرکزی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی فروخت سے متعلق ایک بڑا اور اہم حکم جاری کیا ہے۔ اب صنعتی، تجارتی اور ادارہ جاتی صارفین پٹرول پمپوں سے پٹرول یا ہائی اسپیڈ ڈیزل نہیں خرید سکیں گے۔ انہیں اپنی ضرورت کا ایندھن اب اپنے ذاتی ’کنزیومر پمپوں‘ یا مجاز تھوک فروخت مراکز سے ہی حاصل کرنا ہوگا۔ یعنی اب بڑی مقدار میں پٹرول-ڈیزل کی خریداری پٹرول پمپ سے نہیں ہو پائے گی۔
دراصل حالیہ دنوں میں پٹرول پمپوں پر ڈیزل کی طلب میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ قیمتوں میں بڑا فرق ہے۔ دہلی میں پٹرول پمپ پر ڈیزل کی قیمت 95.20 روپے فی لیٹر ہے، جبکہ تھوک خریداروں کے لیے اس کی قیمت 134.50 روپے فی لیٹر ہے۔ اس فرق کی وجہ سے بڑی کمپنیاں اور صنعتیں تھوک مارکیٹ کے بجائے پٹرول پمپوں سے سستا ڈیزل خرید رہی تھیں، جس سے عام لوگوں کے لیے ایندھن کی قلت کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔
اب حکومت کے نئے فیصلہ سے عام لوگوں کو آسانیاں میسر ہونے کی امید ہے۔ حکومت نے فی الحال اس حکم کو 90 دنوں کے لیے نافذ کیا ہے۔ اس کے تحت پٹرول پمپ ڈیلر اب کسی بھی ایک صارف یا گاڑی کو ایک دن میں 200 لیٹر سے زیادہ ڈیزل فروخت نہیں کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ پٹرول پمپ سے خریدے گئے ڈیزل کی آگے فروخت (ری سیل) پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
یہ ضابطہ صرف بڑے صنعتی اور تجارتی صارفین کے لیے ہے۔ عام شہریوں (انفرادی صارفین) کو پٹرول پمپوں پر پہلے کی طرح ہی ایندھن دستیاب رہے گا۔ حکومت کا مقصد صرف یہ یقینی بنانا ہے کہ عام آدمی کے لیے مقرر کردہ رعایتی نرخوں کا فائدہ بڑے تجارتی ادارے غلط طریقے سے نہ اٹھا سکیں۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
