درخواست گزارنے ہائی کورٹ میں خودکشی کی دھمکی دی

پولیس کی عدم فعالیت سے پریشان ایک خاتون درخواست گزار تیجندرجیت سنگھ کور نے ایک پیغام بھیج کرہائی کورٹ میں خودکشی کی دھمکی دے ڈالی۔

علامتی فائل تصویرآئی اے این ایس
علامتی فائل تصویرآئی اے این ایس
user

یو این آئی

اتراکھنڈ ہائی کورٹ میں جمعہ کو ایک عجیب وغریب معاملہ سامنے آیا۔ اراضی کے تنازعہ میں ہریدوار پولیس کی عدم فعالیت سے پریشان ایک خاتون درخواست گزار تیجندرجیت سنگھ کور نے ایک پیغام بھیج کرہائی کورٹ میں خودکشی کی دھمکی دے ڈالی۔

چیف جسٹس آر ایس چوہان کی سربراہی والی بنچ نے سماعت کے دوران معاملے کو سنجیدگی سے لیا اور درخواست گزار کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور توہین عدالت کی کارروائی کو عمل میں لانے کاعندیہ دیا۔ درخواست گزار کی وکیل دویا جین کی جانب سے عدالت سے اس معاملے میں معافی مانگ لی گئی۔ عدالت نے اسے ہائی کورٹ کی تاریخ کا پہلا کیس قرار دیا۔


دراصل معاملہ ہریدوار میں دو فریقوں کی زمین سے متعلق ہے۔ درخواست گزار تیجندرجیت کور کی جانب سے یہ عرضی دائر کی گئی تھی کہ سوامی کیلاشنند اس کی زمین کوہڑپنا چاہتے ہیں اور اسے خردبرد کرناچاہتے ہیں۔ اس نے ہریدوار پولیس کو کئی شکایات دیں لیکن دو سال گزرنے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اس نے یہ بھی الزام لگایا کہ اسے سوامی کیلاشنند سے خطرہ ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے تحفظ کی اپیل بھی کی ہے۔

عدالت نے اس معاملے میں حکومت کاموقف جانا لیکن کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔ اس کے بعد عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل ایس این بابولکر کو ذمہ داری دی کہ وہ ریاست کے ڈائریکٹر جنرل پولیس اشوک کمار کوایسے معاملات کو سنجیدگی سے لینے اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے کہیں۔


یہی نہیں عدالت نے یہ بھی کہا کہ ڈی جی پی تمام اضلاع کے افسران کو سرکلر جاری کریں اور زمین سے متعلق تمام معاملات میں مقدمہ درج کر کے مجرموں کے خلاف کارروائی کریں۔ عدالت نے مزید کہا کہ پولیس کی عدم فعالیت کے سبب عدالتوں میں سیکورٹی کے معاملات بڑھ رہے ہیں۔ یہی نہیں عدالت نے ہریدوار کے ایس ایس پی کو بھی درخواست گزار کو سیکورٹی فراہم کرنے کی ہدایت دی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔