شہریت قانون نوٹیفکیشن پر روک لگانے کی تیاری، سپریم کورٹ میں عرضی داخل

انڈین یونین مسلم لیگ نے جمعرات کو عدالت عظمیٰ میں دو عرضی داخل کی۔ ایک عرضی شہریت قانون نوٹیفکیشن پر روک لگانے کے لیے اور دوسری عرضی این آر سی سے متعلق وضاحت پیش کرنے کے لیے داخل کی گئی۔

سپریم کورٹ
سپریم کورٹ
user

یو این آئی

نئی دہلی: شہریت ترمیمی قانون (سی اےاے) کے خلاف سپریم کورٹ میں سب سے پہلے درخواست دائر کرنے والی انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل ) نے اسی سے منسلک دومزید عرضیاں جمعرات کو دائر کیں۔ اپنی پہلی درخواست میں آئی یو ایم ایل نے سی اےاے کو لاگو کرنے کو لے کر 10 جنوری کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے، وہیں دوسری درخواست میں درخواست گذار نے یہ واضح کرنے کو کہا ہے کہ کیا قومی شہریت رجسٹر (این آرسی) کو پورے ملک میں لاگو کیا جائے گا۔

آئی یو ایم ایل نے یہ بھی جاننا چاہا ہے کہ کیا این آرسی اور قومی آبادی رجسٹر (این پی آر) سے متعلق عمل ایک دوسرے سے منسلک ہوں گے۔ خیال رہے آئی یو ایم ایل نے سب سے پہلے شہریت ترمیمی بل کے پارلیمنٹ سے منظور ہونے کے بعد ہی اس کے آئینی منظوری کو چیلنج کرتے ہوئے عرضی دائر کر دی تھی۔ قابل غور ہے کہ سی اےاے کے خلاف تقریباً 60 عرضیاں سپریم کورٹ میں زیر التواء ہیں جن کی سماعت 22 جنوری کو ہونی ہے۔

next