میگھالیہ کان دھماکہ: جسے 'مردہ' سمجھ کر اہل خانہ نے سپردِ خاک کر دیا، وہ شخص زندہ نکلا

انتظامیہ اس سنگین لاپرواہی کی تحقیقات کر رہی ہے کہ مردہ قرار دینے اور شناخت کے عمل میں کہاں غلطی ہوئی، جبکہ اس 'دوسرے شخص' کی شناخت کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

یو این آئی

میگھالیہ کے ایسٹ جینتیا ہلز ضلع میں 'مائنس گٹ-تھانگسکو' کوئلہ کان دھماکے کے کیس میں ایک ایسی چونکا دینے والی لاپرواہی سامنے آئی ہے جس نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ ایک 44 سالہ زخمی شخص، جسے سرکاری طور پر مردہ قرار دے دیا گیا تھا اور جس کی آخری رسومات بھی ادا کر دی گئی تھیں، وہ زندہ پایا گیا ہے۔

واقعات کے مطابق، کریم گنج (آسام) کے رہائشی شیام بابو سنہا کے اہل خانہ نے یہ سمجھ کر ان کی آخری رسومات ادا کر دی تھیں کہ 5 فروری کو ہونے والے ڈائنامائٹ دھماکے میں ان کی موت ہو گئی ہے۔ ایسٹ جینتیا ہلز کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ منیش کمار نے بتایا کہ دھماکے کے بعد سنہا کو شیلانگ کے 'نارتھ ایسٹرن اندرا گاندھی ریجنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اینڈ میڈیکل سائنسز' منتقل کیا گیا تھا۔ وہاں 8 فروری کو انہیں مردہ قرار دے کر ایک لاش ان کے لواحقین کے حوالے کر دی گئی۔ اہل خانہ نے اس لاش کو اپنا عزیز سمجھ کر آسام میں اپنے آبائی مقام پر لے جا کر تمام آخری رسومات مکمل کر لیں۔


تاہم، 12 فروری کو ضلع انتظامیہ کو اطلاع ملی کہ شیام بابو سنہا دراصل زندہ ہیں اور اسپتال میں ان کا علاج جاری ہے۔ تصدیق کے بعد ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے اس بات کی توثیق کی کہ خاندان نے غلطی سے کسی دوسرے متوفی کی لاش پر دعویٰ کیا اور نادانستہ طور پر کسی دوسرے شخص کی آخری رسومات ادا کر دیں۔ انتظامیہ اب اس سنگین لاپرواہی کی تحقیقات کر رہی ہے کہ مردہ قرار دینے اور شناخت کے عمل میں کہاں غلطی ہوئی، جبکہ اس 'دوسرے شخص' کی شناخت کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے جس کی آخری رسومات ادا کی گئی تھیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔