بنگلہ زبان پر فارسی تہذیب کے گہرے اثرات ہیں: مقررین

ممبرپارلیمنٹ محمد سلیم نے کہا کہ بنگلہ ایک ایسی زبان ہے جس نے فارسی اور عربی سے استفادہ کرکے مالا مال ہوئی اور آج بھی فارسی اور عربی کے بہت سارے الفاظ بنگلہ زبان میں جوں کی توں برقرار ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

کولکاتا: اس دلیل کے ساتھ کہ بنگلہ زبان اور فارسی کے درمیان روابط کئی صدیوں قدیم ہیں اور بنگلہ زبان نے فارسی و عربی تہذیب و اثرات کو قبول کر کے اپنے علمی سرمایہ میں اضافہ کیا ہے۔ کولکاتا میں منعقد ایک سمینار میں مقررین نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی کے بعد منافرت کی سیاست اور بنگلہ زبان کو خالص سنسکرتی زبان بنانے کی مہم کے باوجود آج بھی بنگلہ زبان میں فارسی و عربی کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔

کولکاتا کا قدیم اکیڈمک اور سماجی ادارہ ایران سوسائٹی کے پلاٹینیم جبلی تقریب کے موقع پر منعقد سیمینار ”بنگال کے فارسی ورثہ“ کے افتتاحی تقریب میں ممبرپارلیمنٹ محمد سلیم نے کہا کہ بنگلہ ایک ایسی زبان ہے جس نے فارسی اور عربی سے استفادہ کرکے مالا مال ہوئی اور آج بھی فارسی اور عربی کے بہت سارے الفاظ بنگلہ زبان میں جوں کی توں برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ فارسی اور بنگلہ زبان کے درمیان گہرے رشتے ہیں اور بلکہ بنگلہ زبان مشترکہ تہذیب و کلچر کی سب سے بڑی امین ہے۔ بنگلہ زبان کی خصوصیت یہی ہے کہ اس نے ہر ایک اچھی چیز کو قبول کیا ہے اور اس کا رجحان انتہا پسندی کی طرف نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بنگال اور بنگلہ کا لفظ بھی فارسی کی مرہون منت ہے۔ اسی طرح پہلی بنگلہ سال کے پہلے دن کو پہلا بیساکھ کہا جاتا ہے۔ جب کہ پہلا کے لئے بنگلہ میں باضابطہ الفاظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی تقسیم کے بعد یقیناً بنگلہ زبان سے فارسی و عربی کے الفاظ کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی مگر اس طرح کی مہم چلانے والوں کو ناکامی ہاتھ آئی۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مشترکہ تہذیب و کلچر کی حفاظت کی جائے۔ اس قدیم رشتے کی آبیاری کی جائے۔ تاکہ ملک میں مشترکہ تہذیب و کلچر کی حفاظت ہوسکے۔

مشہور اسکالر اور سابق آئی پی ایس آفیسر جواہر سرکار نے کہا کہ بنگلہ میں کم وبیش عربی و فارسی کے 5 ہزار الفاظ آج بھی ہیں جس میں صرف فارسی کے تین ہزار الفاظ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فارسی تہذیب کا اثر صرف زبان پر نہیں ہے بلکہ آرکٹیک، کھانے پینے اور رہن سہن پر اس کلچر کا اثر ہے۔ انہوں نے برہمن وادی نظریہ کے بنگالی اسکالروں نے بنگلہ سے فارسی الفاظ کو ہٹانے کی کوشش کی مگر عام بنگلہ تہذیب و کلچر نے اس تحریک کو قبول نہیں کیا اور آج بھی بنگلہ میں فارسی کے الفاظ موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ بنگلہ میں فارسی کے اثرات کی وجہ مسلم سلطنت ہے۔ یہاں یقیناً فارسی دفتری زبان تھی اور ہندؤں کے اعلیٰ طبقے نے فارسی سیکھ کر روزگار حاصل کیے۔ مگر فارسی اور بنگلہ کا رشتہ 13ویں صدی سے ہی قائم ہوگیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ زبان اگر آج دنیا کے دولت مند زبانوں میں سے ایک ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ بنگلہ زبان نے اچھے اثرات کو قبول کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ کو فارسی کرنے میں مسلمانوں سے زیادہ ہندو شعراء و ادباء کا بہت ہی اہم رول رہا ہے۔

وشو بھارتی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پابترا سرکار نے جواہر سرکار کے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ فارسی تہذیب و کلچر کو قبول کرنے کی کئی ساری تاریخی، سماجی وجوہات ہیں۔ تاہم یہ کہنا کہ برہمن واد نے بنگلہ ز بان سے فارسی کو ہٹانے کی کوشش کی تو یہ نصف سچ ہے، کچھ برہمن ادیبوں و شاعروں نے یہ کوشش کی مگر کئی ایسے برہمن شاعر و ادیب ہیں جن کے یہاں کثرت سے فارسی کے الفاظ ملتے ہیں۔

افتتاحی تقریب میں مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر جنرل ضمیرالدین شاہ، جسٹس شیامل سین، جسٹس چیتا توش چٹرجی، ڈاکٹر فواد حلیم، نثار احمد اور خواجہ جاوید یوسف شامل تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔