کشمیر میں نظربندی سے نجات کے لیے لیڈروں سے بھروایا جا رہا ’بانڈ‘، 370 پر منھ رکھنا ہوگا بند

جموں و کشمیر کے بدلے ہوئے حالات میں اب بھی کئی لیڈران، سیاسی و سماجی کارکنان نظر بند ہیں۔ اب دھیرے دھیرے ان میں سے کچھ لوگوں کو آزاد کیا جا رہا ہے، لیکن ان سے ایک بانڈ بھروایا جا رہا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

دفعہ 370 کو ہٹائے جانے کے بعد سے ہی کشمیر کی علیحدگی پسند تنظیموں سے جڑے لوگوں کے ساتھ ہی اصل دھارے کی پارٹیوں کے لیڈروں، سیاسی و سماجی کارکنان کو حراست میں لیا گیا ہے یا نظر بند کر دیا گیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر لیڈروں اور کارکنان اب بھی نظر بند ہیں، لیکن اب دھیرے دھیرے کچھ لوگوں کو آزاد کیا جا رہا ہے۔ لیکن یہ آزادی پوری طرح سے نہیں ہے، انھیں اب بھی حکومت کے بتائے گئے طریقوں سے رہنا ہوگا۔ جن لوگوں کو بھی آزاد کیا جا رہا ہے، ان سے ایک بانڈ پر دستخط کرائے جا رہے ہیں جس میں لکھا گیا ہے کہ وہ ایک سال تک دفعہ 370 پر اپنا منھ نہیں کھولیں گے۔

خبروں کے مطابق آزاد کیے جا رہے کشمیری شہریوں سے حکومت یہ لکھوا رہی ہے کہ وہ اس بات کی گارنٹی دیتے ہیں کہ جموں و کشمیر سے متعلق تازہ واقعہ کو لے کر یا اس سے نہ تو کسی طرح کی کہیں کوئی بات کہیں گے نہ ہی کسی طرح کے جلسے میں کوئی بیان یا تقریر کریں گے۔ بانڈ پیپر میں کہا گیا ہے کہ اس دوران وہ شخص کوئی عوامی جلسہ بھی نہیں کرے گا، جس میں ریاست کے کسی حصے میں نظامِ قانون اور امن کا مسئلہ کھڑا کرنے کی صلاحیت ہو۔

اس طرح کی شرط کے ساتھ ہی نظر بندی سے آزاد ہونے والے شخص کو ضمانتی رقم بھی جمع کرنے کی شرط رکھی گئی ہے۔ بانڈ میں ہی کہا گیا ہے کہ دستخط کرنے والے کو ضمانت کے طور پر 10 ہزار روپے جمع کرنے ہوں گے اور بانڈ کی شرطوں کی خلاف ورزی کی حالت میں 40 ہزار روپے ضمانت کے طور پر دینے ہوں گے۔ ساتھ ہی اس بانڈ کی خلاف ورزی کرنے کی صورت میں آزاد کیے گئے شخص کو پھر سے نظر بند کیا جا سکتا ہے۔ غور طلب ہے کہ بانڈ میں مذکور حال کے واقعات کا صاف مطلب دفعہ 370 کو ہٹائے جانے اور ریاست کی تقسیم کے بعد پیدا ہوئے حالات سے ہے۔

حالانکہ حکومتیں عام طور پر سیاسی بندیوں کی رہائی سے پہلے اس طرح کے بانڈ پیپر پر دستخط کرواتی رہی ہیں۔ لیکن جموں و کشمیر میں بدلے حالات کے درمیان حکومت نے بانڈ پیپر کی شرطوں میں کئی اہم تبدیلیاں کر دی ہیں۔ پہلے بانڈ میں دستخط کنندہ سے امن کی خلاف ورزی نہیں کرنے یا ایسی کوئی حرکت نہیں کرنے کا وعدہ لیا جاتا تھا تاکہ ماحول خراب نہ ہو۔ لیکن کشمیر کے بدلے حالات اور طویل مدت سے جاری نظر بندی کی کارروائی میں وہاں کی حکومت کے ذریعہ اس طرح کے بانڈ بھروانے سے سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔