’لوگ سوچنے پر مجبور ہیں کہ وہ کیا پکائیں، کیا کھائیں اور کیا بچائیں‘، بڑھتی مہنگائی پر کانگریس کا اظہارِ تشویش

جاری کردہ معلومات کے مطابق، کبھی 80 روپے فی کلو ملنے والی رسوئی گیس کی قیمت بڑھ کر 500 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح لکڑی، جو پہلے 10 روپے فی کلو دستیاب تھی، اب 50 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>مودی حکومت میں مہنگائی عروج پر، علامتی تصویر (اے آئی)</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ہندوستان میں مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی ہے۔ کانگریس نے مرکز کی مودی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ مہنگائی کی ایک وجہ حکومت کی عوام مخالف پالیسی بھی ہے۔ اس تعلق سے کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک نئی پوسٹ جاری کی ہے۔ اس پوسٹ میں ویڈیو اور اس کے ساتھ فراہم کردہ اعداد و شمار میں مہنگائی کے مسئلہ کو نمایاں طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔ پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ گھریلو استعمال کی بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس سے عام لوگوں کی زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔

جاری کردہ معلومات کے مطابق، کبھی 80 روپے فی کلو ملنے والی رسوئی گیس کی قیمت بڑھ کر 500 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح لکڑی، جو پہلے 10 روپے فی کلو دستیاب تھی، اب 50 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔ ہوٹلوں میں کھانے کی تھالی کی قیمت بھی بڑھ کر 50 روپے سے 80 روپے تک ہو گئی ہے۔ کانگریس نے ان اعداد و شمار کے ذریعہ سوال اٹھایا ہے کہ جب روزمرہ استعمال کی اشیاء اس قدر مہنگی ہو جائیں تو عام آدمی کے لیے جینا کس قدر مشکل ہو جاتا ہے۔ پارٹی نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگ سوچنے پر مجبور ہیں کہ وہ کیا پکائیں، کیا کھائیں اور کیا بچائیں۔


پوسٹ کے ساتھ منسلک ویڈیو میں بھی مہنگائی کے اثرات کو عام آدمی کی زندگی سے جوڑ کر دکھایا گیا ہے، جہاں باورچی خانے کے اخراجات میں اضافے کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی قیمتیں نہ صرف متوسط اور غریب طبقہ کے لیے پریشانی کا باعث ہیں بلکہ ان کی بنیادی ضروریات کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، مہنگائی ایک اہم عوامی مسئلہ بن چکی ہے اور اپوزیشن پارٹیاں اس معاملہ پر حکومت کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہیں۔ دوسری جانب حکومت کی طرف سے مہنگائی پر قابو پانے کے اقدامات کا ذکر کیا جاتا ہے، تاہم اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ زمینی سطح پر اس کا خاطر خواہ اثر نظر نہیں آ رہا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔