حاملہ ہتھنی کی دردناک موت کے بعد سوشل میڈیا پر لوگ برہم، مرکز نے کیرالہ حکومت سے مانگی رپورٹ

ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی، ٹاٹا سنس کے چیئرمین رتن ٹاٹا، بی ایس پی سربراہ مایاوتی، بی جے پی رکن پارلیمنٹ بابل سپریو سمیت کئی معروف ہستیوں نے حاملہ ہتھنی کی موت پر اپنی ناراضگی ظاہر کی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کیرالہ کے پلکڈ ضلع واقع سائلنٹ ویلی فاریسٹ میں ایک حاملہ ہتھنی گزشتہ دنوں انتقال کر گئی۔ اس کی موت انتہائی دردناک طریقے سے ہوئی جس کی خبر سوشل میڈیا پر پھیلنے کے بعد کئی بڑی ہستیوں نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔ دراصل کسی نے حاملہ ہتھنی کو اناناس کے اندر دھماکہ خیز مادہ بھر کر کھلا دیا تھا اور اس کے بعد ہتھنی کا جبڑا اور پیٹ بری طرح زخمی ہو گیا تھا۔ بعد ازاں بھاگتی ہوئی ہتھنی ایک ندی میں پہنچی جہاں وہ تین دن تک کھڑی رہی اور زخموں کی تاب نہ لا کر آخر کار ہلاک ہو گئی۔

اس واقعہ کی چہار جانب تنقید ہو رہی ہے اور قصورواروں کو سزا دینے کا مطالبہ بھی زور پکڑنے لگا ہے۔ اس درمیان مرکزی حکومت نے بھی معاملے کا نوٹس لیا ہے۔ خبروں کے مطابق مرکزی وزیر ماحولیات پرکاش جاوڈیکر نے کیرالہ حکومت سے اس سلسلے میں تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی، ٹاٹا سنس کے چیئرمین رتن ٹاٹا، بی ایس پی سربراہ مایاوتی، بی جے پی رکن پارلیمنٹ بابل سپریو سمیت کئی معروف ہستیوں نے حاملہ ہتھنی کی موت پر اپنی ناراضگی ظاہر کی۔ کوہلی نے تو ٹوئٹ کر کے اس واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ کیرالہ میں جو کچھ ہوا اس کے بارے میں سن کر بہت افسردہ ہوں۔ رتن ٹاٹا نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ "اس واقعہ سے میں کافی حیران اور ششدر ہوں، بے گناہ جانوروں کے ساتھ ایسے مجرمانہ کام انسانوں کے قتل سے الگ نہیں ہیں۔"

بہوجن سماج پارٹی کی صدر مایاوتی نے بھی کیرالہ میں حاملہ ہتھنی کے وحشیانہ قتل کی سخت مذمت کرتے ہوئے حکومت سے اس کے قصورواروں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیاہے۔ انھوں نے جمعرات کو ایک ٹوئٹ میں کہا کہ "ہاتھی ایک سمجھدار جانور ہے اور اس کے ساتھ وحشی پن کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔"

اس پورے معاملے پر کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پینارائی وجین کا بھی رد عمل سامنے آ چکا ہے۔ انھوں نے ہتھنی کی موت سے متعلق جانچ کا حکم دے دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔ پینارائی وجین کا کہنا ہے کہ پلکڈ ضلع کے منارکڈ جنگلاتی ڈویژن میں ہتھنی کی موت سے متعلق ابتدائی جانچ شروع کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پولس کو واقعہ کے ذمہ دار لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم بھی دے دیا گیا ہے۔ اس معاملے کی جانچ جنگلاتی جانور جرائم جانچ دستہ کی ایک ٹیم کے سپرد کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ حاملہ ہتھنی دراصل کھانے کی تلاش میں بھٹکتے ہوئے 25 مئی کو جنگل سے قریب کے گاؤں میں پہنچ گئی تھی۔ حاملہ ہونے کی وجہ سے اسے اپنے بچے کے لیے کھانے کی ضرورت تھی۔ ایسے وقت میں کچھ لوگوں نے اسے اناناس کھلا دیا جس کے بعد اس کے منھ میں دھماکہ ہوا اور اس کا جبڑا بری طرح سے پھٹ گیا۔ اس دھماکہ میں اس کے دانت بھی ٹوٹ گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ کسی نے بدمعاشنی میں اناناس میں دھماکہ خیز مادہ رکھ کر اس حاملہ ہتھنی کو کھلا دیا۔ درد سے تڑپ رہی ہتھنی کو جب کچھ سمجھ نہیں آیا تو وہ ویلیار ندی میں جا کھڑی ہوئی اور اپنے درد کو کم کرنے کے لیے وہ پورے وقت بار بار پانی پیتی رہی۔

میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق ہتھنی کا درد اتنا شدید تھا کہ وہ تین دن تک ندی میں سونڈ ڈال کر کھڑی رہی۔ آخر کار وہ زندگی کی جنگ ہار گئی۔ محکمہ جنگلات کے افسران کے مطابق اس کی عمر 15-14 سال تھی۔ افسران نے یہ بھی بتایا کہ وقت پر اس تک مدد نہیں پہنچائی جا سکی۔ ہتھنی کے بارے میں جانکاری ملنے کے بعد محکمہ جنگلات کے افسران اسے بچانے کے لیے پہنچے لیکن وہ پانی سے باہر نہیں آئی اور ہفتہ کے روز اس کی موت ہو گئی۔

next