بچوں کو طویل مدتی مالی تحفظ فراہم کرنے لیے پنشن فنڈ نے شروع کی ’این پی ایس واتسلیہ اسکیم‘

’این پی ایس واتسلیہ اسکیم‘ کا مقصد ہے کہ والدین یا قانونی سرپرست اپنے بچوں کے لیے چھوٹی عمر سے ہی باقاعدہ بچت شروع کر سکیں، جو آگے چل کر پنشن کی مضبوط بنیاد بنے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

پنشن فنڈ ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ایف آد ڈی اے) نے بچوں کے طویل مدتی مالی تحفظ کو مضبوط کرنے کے مقصد سے ’این پی ایس واتسلیہ اسکیم 2025‘ سے متعلق آفیشیل گائیڈلائن جاری کر دیا ہے۔ یہ منصوبہ خاص طور پر 18 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے تیار کیا گیا ہے تاکہ ان کے مستقبل کو معاشی طور پر محفوظ بنایا جا سکے۔ واضح رہے کہ ’این پی ایس واتسلیہ اسکیم‘ کا اعلان مالی سال 25-2024 کے مرکزی بجٹ میں کیا گیا تھا اور اسے 18 ستمبر 2024 کو وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کے ذریعہ لانچ کیا گیا تھا۔ اس منصوبہ کا مقصد ہے کہ والدین یا قانونی سرپرست اپنے بچوں کے لیے چھوٹی عمر سے ہی باقاعدہ بچت شروع کر سکیں، جو آگے چل کر پنشن کی مضبوط بنیاد بنے۔

’این پی ایس واتسلیہ اسکیم‘ کے تحت 18 سال سے کم عمر کا کوئی بھی ہندوستانی شہری اکاؤنٹ کھول سکتا ہے۔ اس میں این آر آئی اور او سی آئی بچے بھی شامل ہیں۔ اکاؤنٹ بچے کے نام پر کھلے گا، لیکن اسے سرپرست چلائیں گے، اس منصوبہ میں بچہ ہی واحد استفادہ کنندہ ہوگا۔ این پی ایس واتسلیہ اکاؤنٹ میں کم از کم شروعاتی اور سالانہ شراکت صرف 250 رکھا گیا ہے، زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ والدین کے علاوہ رشتہ دار اور دوست بھی بچے کے اکاؤنٹ میں گفٹ کے طور پر پیسہ جمع کر سکتے ہیں۔


اکاؤنٹ کھولنے کے 3 سال بعد تعلیم، علاج یا خاص ضرورتوں کے لیے جمع رقم کا 25 فیصد تک نکالا جا سکتا ہے۔ یہ سہولت 18 سال سے قبل 2 مرتبہ اور 18 سے 21 سال کی عمر کے درمیان 2 مرتبہ دی گئی ہے۔ جب بچہ 18 سال کا ہو جائے گا تو نئے سرے سے کے وائی سی کرانا ضروری ہوگا۔ اس کے بعد 21 سال کی عمر تک اکاؤنٹ ہولڈر کے پاس 3 اختیار ہوں گے اسکیم جاری رکھنے کے، این پی ایس ٹیئر-1 اکاؤنٹ میں منتقل کرنا یا پھر اسکیم سے باہر نکلنا۔ اگر کُل جمع رقم 8 لاکھ یا اس سے کم ہے تو پوری رقم نکالی جا سکتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ حکومت نے آنگن باڑی کارکنان، آشا ورکرز اور بینک سکھیوں کو بھی اس اسکیم سے جوڑنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ دیہی اور نیم شہری علاقوں میں زیادہ سے زیادہ لوگ اس اسکیم سے مستفید ہو سکیں۔ مجموعی طور پر ’این پی ایس واتسلیہ اسکیم‘ بچوں میں بچت کی عادت ڈالنے، مالی سمجھ میں اضافہ کرنے اور ملک کو معاشی طور پر مضبوط کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم مانا جا رہا ہے۔