پیگاسس جاسوسی معاملہ: حزب اختلاف کے اراکین کا پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطہ میں احتجاج

کانگریس سمیت حزب اختلاف کی جماعتوں کے متعدد ارکان پارلیمنٹ نے جمعہ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطہ میں مظاہرہ کیا اور حکومت مخالف نعرے بازی کی

کانگریس ارکان پارلیمنٹ کا احتجاج
کانگریس ارکان پارلیمنٹ کا احتجاج
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کانگریس سمیت حزب اختلاف کی جماعتوں کے متعدد ارکان پارلیمنٹ نے جمعہ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطہ میں مظاہرہ کیا اور حکومت مخالف نعرے بازی کی۔ حزب اختلاف کے اراکین پارلیمنٹ نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کے مجسمے کے سامنے جمع ہوکر نعرے بازی کرتے ہوئے اس حساس معاملہ کی تفتیش کرانے کا مطالبہ کیا۔

احتجاج کررہے اراکین ہاتھوں میں لکھی ہوئی تختیاں اور بینر لے کر سرکار پر جاسوسی کرانے کا الزام لگاتے ہوئے نعرے بازی کر رہے تھے۔ احتجاج میں کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی، پارٹی کے لوک سبھا میں لیڈر ادھیر رنجن چودھری، راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے، پارٹی کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال کے علاوہ ترنمول کانگریس، ڈی ایم کے اور دیگر جماعتوں کے اراکین شامل تھے۔


اس دوران کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو ہدف تنقید بنایا۔ راہل گاندھی نے کہا، ’’پیگاسس ایک سافٹ ویئر ہے جس کی اسرائیل کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف استعمال کئے جانے والے ہتھیار کے طور پر درجہ بندی کی گئی ہے مگر وزیر اعظم اور وزیر داخلہ امت شاہ نے اس ہتھیار کا استعمال ریاستِ ہند اور اداروں کے خلاف کیا۔ جاسوسی کرائے جانے کے اس انتہائی حساس معاملہ کی جانچ عدالت سے کرائی جائے اور امت شاہ اپنا استعفی پیش کریں۔‘‘

ادھر، پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے لگاتار چوتھے دن پیگاسس جاسوسی معاملہ پر ہنگامہ کیا گیا۔ کانگریس سمیت حزب اختلاف کی متعدد جماعتوں نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اس معاملہ پر بحث کرانے کے لئے التوا کے نوٹس پیش کئے۔ ادھر، گزشتہ روز آئی ٹی کے وزیر کے ہاتھ سے کاغذ چھیننے کی پاداش میں ٹی ایم سی کے راجیہ سبھا رکن شانتنو سین کو پورے اجلاس سے معطل کر دیا گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔