پیگاسس جاسوسی: حزب اختلاف کی حکومت کو گھیرنے کی تیاری اور سرجےوالا کی فون استعمال نہ کرنے کی صلاح!

سرجے والا نے کہا کہ بات چیت کے لئے فون استعمال نہ کریں کیونکہ یہ آپ کو تو کچھ ہزار کا پڑتا ہے لیکن حکومت کو کروڑوں کا پڑتا ہے اور پھر جاسوسی کے خرچ کو پورا کرنے کے لئے پٹرول-ڈیزل مہنگے کرنے پڑتے ہیں

کانگریس لیڈر آر ایس سرجے والا / تصویر یو این آئی
کانگریس لیڈر آر ایس سرجے والا / تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: مودی حکومت کی جانب سے اسرائیلی سافٹ ویئر ’پیگاسس‘ کے ذریعے ملک کی مشہور شخصیات کی جاسوسی کرانے کے الزامات کے سلسلہ میں ایک طرف جہاں حزب اختلاف کی جماعتیں اس مسئلہ کو پارلیمنٹ میں زور و شور سے اٹھانے کی تیاری کر رہی ہیں، وہیں دوسری طرف کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے ملک باشندگان کو صلاح دی ہے کہ وہ آپسی بات چیت کے لئے فون کا استعمال نہ کریں۔

سرجے والا نے ٹوئٹر پر لکھا، ’’پیارے ملک کے باشندگان، برائے کرم آپسی بات چیت کے لئے فون کا استعمال نہ کریں۔ کیونکہ فون آپ کو تو کچھ ہزار کا پڑتا ہے لیکن آپ کا فون حکومت کو کروڑوں کا پڑتا ہے۔ جاسوسی کے اس خرچے کو پورا کرنے کے لئے پھر پٹرول-ڈیزل مہنگا کرنا پڑتا ہے۔‘‘


ادھر، پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں حزب اختلاف کی جماعتیں جاسوسی معاملہ پر حکومت کے محاصرہ کی تیاری کر رہی ہیں۔ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس معاملہ پر میٹنگ طلب کر کے حکمت عملی تیار کی جائے گی۔ وہیں ٹی ایم سی کے لیڈر سکھیندو شیکھر رائے نے راجیہ سبھا میں کام کاج کو ملتوی کر کے ضابطہ 267 کے تحت پیگاسس فون ہیکنگ پر فوری بحث کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ وہیں حکومت بھی خود کے دفاع کی تیاری کر رہی ہے۔ آئی ٹی کی وزیر اشونی ویشنو اس مسئلہ پر آج راجیہ سبھا میں بیان دیں گے۔ ایسے حالات میں مانسون اجلاس کا دوسرا دن بھی ہنگامہ خیز ہونے کے قوی امکانات ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔