کسان تحریک کو ماؤ نوازوں نے دی حمایت! زرعی قانون کو منسوخ کرنے کا مطالبہ

زرعی قوانین کے خلاف 27 ستمبر کو کسان مہاسبھا کے ملک گیر بند کو نکسلی تنظیم سی پی آئی ماؤنوازنے حمایت دی ہے، ماؤ نوازوں نے گریڈیہہ کے ڈمری تھانہ علاقے میں کئی مقامات پر اس سے متعلق پوسٹر چسپاں کئے تھے

کسان تحریک، فائل تصویر / آئی اے این ایس
کسان تحریک، فائل تصویر / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

گریڈیہہ: مرکز کے زرعی قوانین کے خلاف تقریباً ایک سال سے چل رہی کسانوں کی تحریک پوری قوت کے ساتھ جاری ہے۔ کسانوں نے مرکزی حکومت کا گھیراؤ کرنے کے لیے 27 ستمبر کو بھارت بند کا اعلان بھی کیا ہے۔ کچھ سیاسی جماعتیں بھی اس بند کی حمایت کر رہی ہیں لیکن اب ماؤ نوازوں نے بھی کھل کر کسانوں کی حمایت کی ہے۔

زرعی قوانین کے خلاف 27 ستمبر کو کسان مہاسبھا کے ملک گیر بند کو نکسلی تنظیم سی پی آئی ماؤ نوازوں نے بھی حمایت دی ہے۔ جمعرات کو ہی اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے ماؤنوازوں نے گریڈیہ کے ڈمری تھانہ علاقے میں کئی مقامات پر پوسٹر لگائے تھے۔ ایک مطالبہ تھا کہ مرکز کو تینوں زرعی قوانین کو فوری طور پر واپس لینا چاہیے۔ ان قوانین کو ماؤ نوازوں نے کسان مخالف قرار دیا۔


آج تک کی رپورٹ کے مطابق، ڈمری کے علاقوں میں ماؤ نوازوں نے زرعی قوانین کے خلاف کسان مہاسبھا کے بھارت بند کی حمایت کرتے ہوئے لکھا کہ کسی بھی صورت میں مرکزی حکومت کو تینوں زرعی قوانین کو واپس لینا پڑے گا۔ تین زرعی قوانین کو کسان مخالف قرار دیتے ہوئے ماؤ نوازوں نے پوسٹر میں لکھا کہ ان قوانین کی وجہ سے آنے والے وقت میں کسانوں کو صرف نقصان اٹھانا پڑے گا۔

اس دوران مختلف مقامات پر پوسٹر چسپاں کرتے ہوئے ماؤ نوازوں نے قوانین کو منسوخ کرکے کم از کم امدادی قیمت (ام ایس پی) دینے کا مطالبہ بھی اٹھایا لیکن جیسے ہی پولیس کو اس کا علم ہوا، انہوں نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے ان تمام پوسٹرز کو وہاں سے ہٹا دیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔