’مسجدوں کے منبروں سے امن و بھائی چارہ کی صدا بلند کی جائے‘

مسجد فیض الہی میں دہلی کے اماموں کے ساتھ وقف بورڈ کی میٹنگ، فساد متاثرین کے لئے چندہ جمع کرنے کی ہدایت

تصویر بذریعہ پریس ریلیز
تصویر بذریعہ پریس ریلیز
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے پوری دہلی سے آئے مسجدوں کے اماموں اور مؤذنوں کے ساتھ ترکمان گیٹ واقع مسجد فیض الہی میں میٹنگ کی اور معاشرہ میں پھیلی برائیوں کو دور کرنے کے لئے مسجد کے منبروں سے صدائیں بلند کرنے کی ان سے درخواست کی۔ دہلی وقف بورڈ کی طرف سے جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق یہ میٹنگ جمعرات کے روز منعقد ہوئی۔

چیئرمین امانت اللہ خاں نے کہا کہ آج معاشرہ میں برائیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، اخلاقیات کا زوال ہوتا جا رہا ہے، پڑوسی کو پڑوسی کی خبر نہیں ہے، اسلام کی بنیادی تعلیمات سے لوگ ناواقف ہیں، مسجدوں کے منبروں سے معاملات پر بات نہیں ہورہی ہے ایسے میں مساجد کے اماموں کو آگے آکر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔


امانت اللہ خان نے دہلی کی مساجد سے آئے تقریباً ایک ہزار اماموں اور مؤذنوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ کہ معاشرہ آپ کی باتوں کو غور سے سنتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے اس لئے آپ ہر جمعہ کو مسجد کے منبر سے خطبہ جمعہ میں معاشرہ میں امن و آشتی اور بھائی چارہ کو عام کرنے کا پیغام دیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج کی اس میٹنگ سے یہ پیغام معاشرہ میں جانا چاہئے کہ کس طرح دہلی میں امن و بھائی چارہ کی فضا قائم رہی۔ امانت اللہ خان نے دہلی کے شمال مشرقی علاقہ میں ہوئے فساد متاثرین کی مدد کے لئے بھی ائمہ حضرات سے آگے آنے کی اپیل کی۔ امانت اللہ خان نے 15 اماموں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جو فساد متاثرہ علاقوں کا دورہ کرے گی اور متاثرین کی نشاندہی کرے گی۔

امانت اللہ خان نے کہا کہ آپ لوگ کم سے کم ایک ہفتہ متاثرہ علاقوں میں وقت لگائیں اور جو اصل متاثرین ہیں ان تک رسائی حاصل کریں اور جائزہ لیکر بتائیں کہ کس طرح ان کی مدد کی جا سکتی ہے جس کے بعد آپ کی رپورٹ کی روشنی میں ہم متاثرین کا تعاون کریں گے۔ امانت اللہ خان کے مطابق کل متاثرین کی تعداد تین ہزار بتائی جارہی ہے جس میں ایک ہزار سے زائد مصطفی باد واقع عید گاہ کیمپ میں پناہ گزیں ہیں جبکہ باقی ادھر ادھر اپنے رشتہ داروں کے یہاں رہ رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ کافی پریشان ہیں اس لئے ان کی نشاندہی ضروری ہے۔


’مسجدوں کے منبروں سے امن و بھائی چارہ کی صدا بلند کی جائے‘

انہوں نے مزید کہاکہ اماموں پر مشتمل یہ کمیٹی اپنی معلومات اور تعلقات سے ان متاثرین تک پہونچے اور ان کے نقصانات کا اندازہ لگائے اور اگر ضرورت ہو تو بورڈ آفس سے انجینئروں کی ایک ٹیم لے جائے جس کے بعد ان کی رپورٹ اور جائزہ کی روشنی میں ہم باقی متاثرین کی بھی مدد کریں گے۔ انہوں نے آگے کہاکہ اماموں کی یہ کمیٹی عید گاہ کیمپ بھی جائے اور جائزہ لے کہ متاثرین کی کس طرح اور بہتر طریقہ سے مدد کی جاسکتی ہے اور خامیوں کی نشاندہی بھی کرے تاکہ اور بہتر طریقہ سے کام کیا جاسکے۔ امانت اللہ خان نے مسجد کے اماموں سے فساد متاثرین کے لئے چندہ کرنے کی بھی اپیل کی اور کہا کہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ ہر مسجد سے کم سے کم ایک لاکھ روپیہ چندہ جمع کریں تاکہ اس پیسہ سے متاثرین کی بازآبادکاری کی جاسکے۔

اس سے قبل وقف بورڈ کے منبر اور سپریم کورٹ کے وکیل حمال اختر نے اماموں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ دہلی کے مسلمان خوش قسمت ہیں کہ انھیں امانت اللہ خان جیسا چیئرمین اور قائد ملا ہے جو قوم وملت کی فلاح و بہبود کے لئے ایک پیر پر کھڑا ہے اور اس کے لئے نہ اپنے کیرئرکی فکر کرتا ہے اور نہ کسی سے خوف کھاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امانت اللہ خان نے عہد کیاہے کہ وہ فساد متاثرین کی تباہ شدہ دوکانوں کو پہلے سے بہتر حالت میں واپس کریں گے تاکہ فساد کرانے والی فرقہ پرست طاقتیں شرمندہ ہوں۔حمال اختر نے آگے کہاکہ متاثرین کی ہر سطح پر تعاون کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور تاریخ دہلی وقف بورڈ اور امانت اللہ خان کو اس محنت کے لئے ہمیشہ یاد رکھے گی۔


غور طلب ہے کہ ائمہ کی نمائندگی کرتے ہوئے کئی اماموں نے بھی مجمع کے سامنے اپنی بات رکھی اور مسجد ریس کورس کے امام مولانا ہاروں کی جانب سے یہ تجویز آئی کہ وقف بورڈ کے ائمہ حضرات چار ماہ تک اپنی تنخواہ میں سے 5 ہزار روپیہ بطور چندہ دہلی وقف بورڈ کو دیں گے جس سے اماموں نے اتفاق کرتے ہوئے اپنی خوشی سے منظور کیا۔ پروگرام کے دوران نظامت کے فرائض قاری عارف محمد قاسمی نے انجام دئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 13 Mar 2020, 3:10 PM