نربھیا کیس:پون کے نابالغ ہونے کا دعویٰ سپریم کورٹ میں بھی خارج

پون گپتا نے ہائی کورٹ کے گزشتہ 19دسمبر کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیاتھا،جس میں واقعہ کے وقت اس کے نابالغ ہونے کی دلیل خارج کردی گئی تھی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: نربھیا اجتماعی آبرو ریزی اور قتل معاملے کے گنا ہگار پون گپتا کی پھانسی سے بچنے کی ایک اور کوشش پیر کو اس وقت ناکام ہوگئی جب سپریم کورٹ نے بھی اس کے 16دسمبر 2012 کے واقعہ کے دن نابالغ ہونے کے دعوی کو خارج کردیا۔

جسٹس آر بھانومتی،جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس اے ایس بوپنا کی خصوصی بنچ نے دہلی ہائی کورٹ کے اس معاملےمیں 19دسمبر 2019 کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے پون کی عرضی خارج کردی۔ بنچ کی جانب سے جسٹس بھانومتی نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پون کے نابالغ ہونے کا دعوی نچلی عدالت اور ہائی کورٹ نے پہلے ہی خارج کردیا ہے اور اس دعوے پر غور کرنے کی عرضی میں کوئی خاص بنیاد نظر نہیں آتی۔

اس سے پہلے عدالت نے دوپہر بعد تقریباً 45منٹ تک پون کے وکیل اے پی سنگھ اور استغاثہ فریق کی جانب سے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا کی دلیلیں سننے کے بعد فیصلے کےلئے ڈھائی بجے کاوقت مقرر کیاتھا،لیکن بنچ آدھے گھنٹے دیر سے بیٹھی اور اس نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے پون کی خصوصی اجازت عرضی خارج کردی۔ سماعت کےدوران بنچ میں شامل تینوں ججوں نے پون کے وکیل سے کئی اہم سوال کیےتھے۔

پون نے ہائی کورٹ کے گزشتہ 19دسمبر کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیاتھا،جس میں واقعہ کے وقت اس کے نابالغ ہونے کی دلیل خارج کردی تھی۔پون نے اپنی عرضی میں کہاتھا کہ 16دسمبر 2012 کو نربھیا کےساتھ ہوئی حیوانیت کے دن وہ نابالغ تھا۔عرضی میں کہاگیا تھا کہ اس نے اس سلسلے میں ہائی کورٹ کا رخ بھی کیاتھا،لیکن وہاں سے اسے راحت نہیں ملی تھی اور عرضی خارج کردی گئی تھی۔

واضح رہے کہ اس نے خود کو پھانسی کے پھندے سے بچانے کےلئے یہ طریقہ نچلی عدالت میں بھی اپنایا تھا،جس نے اس سلسلے میں اس کی عرضی خارج کردی تھی۔اس کے بعد اس نے ہائی کورٹ کا رخ کیاتھا۔وہاں سے بھی مایوسی ہاتھ لگنےکے بعد پون نے اب سپریم کورٹ کا رخ کیاتھا۔

16دسمبر 2012 کو دارالحکومت میں نربھیا کے ساتھ اجتماعی آبرو ریزی کیےجانےکے بعد اسے نازک حالت میں پھینک دیاگیاتھا۔دہلی میں علاج کے بعد اسے ایئرلفٹ کرکے سنگاپور کے کوین الیزابیتھ اسپتال لے جایاگیاتھا،جہاں اس کی موت ہوگئی تھی۔اس معاملے کے چھ ملزمین میں سے ایک نابالغ تھا،جسے اصلاحی مرکز بھیجا گیاتھا۔اس نے وہاں سزا پوری کرلی تھی۔ایک ملزم رام سنگھ نے تہاڑ جیل میں پھانسی لگا لی تھی۔چار دیگر قصورواروں -پون،مکیش، اکشے اور ونےشرما کو پھانسی کےلئے بلیک وارنٹ جاری کیا جاچکا ہے۔