’راجیش ایکسپورٹس معاملہ میں 15.15 لاکھ کروڑ روپے کا گھوٹالہ‘، پون کھیڑا نے سیبی اور حکومت سے مانگا جواب
کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے راجیش ایکسپورٹس معاملہ کو 15.15 لاکھ کروڑ روپے کا گھوٹالہ قرار دیتے ہوئے سیبی، مرکزی حکومت اور مختلف تفتیشی اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھائے اور جواب دہی کا مطالبہ کیا

نئی دہلی: کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے راجیش ایکسپورٹس سے متعلق معاملہ کو 15.15 لاکھ کروڑ روپے کا گھوٹالہ قرار دیتے ہوئے سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی)، مرکزی حکومت اور مختلف جانچ ایجنسیوں کے کردار پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کے سرمایہ کاروں کا ہزاروں کروڑ روپے ڈوب گیا لیکن متعلقہ ادارے طویل عرصے تک خاموش تماشائی بنے رہے۔
پون کھیڑا نے کہا کہ عام لوگ برسوں سے 15 لاکھ روپے کے وعدے کا انتظار کرتے رہے لیکن اب ایک ایسا معاملہ سامنے آیا ہے جس میں 15.15 لاکھ کروڑ روپے کے کاروباری لین دین اور مالیاتی ریکارڈ پر سنگین سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق سیبی نے کمپنی اور اس کے پروموٹرز کے خلاف مالیاتی بے ضابطگیوں کی شکایات موصول ہونے کے باوجود فوری کارروائی نہیں کی، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مارچ 2024 میں ایک حصص دار کی جانب سے شکایت درج کرائی گئی تھی، لیکن سیبی نے اس پر سات ماہ تک کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا۔ پون کھیڑا کے مطابق شکایت میں کئی ایسے نکات موجود تھے جو کسی بھی ریگولیٹری ادارے کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتے تھے، تاہم ان پر بروقت توجہ نہیں دی گئی۔
کانگریس ترجمان نے کہا کہ لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا سمیت متعدد سرمایہ کاروں نے راجیش ایکسپورٹس میں سرمایہ کاری کی تھی۔ ان کے مطابق فروری 2023 میں کمپنی کی بازاری قدر تقریباً 28 ہزار کروڑ روپے تھی، جو گھٹ کر تقریباً 3 ہزار کروڑ روپے رہ گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس دوران تقریباً 25 ہزار کروڑ روپے کی قدر ختم ہو گئی اور اس کا نقصان عام سرمایہ کاروں کو اٹھانا پڑا۔
پون کھیڑا نے سوال اٹھایا کہ سونے اور جواہرات کے کاروبار سے وابستہ کمپنی کو توانائی ذخیرہ کرنے کے شعبے میں ہزاروں کروڑ روپے کے منصوبے کس بنیاد پر دیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کو 18 ہزار 100 کروڑ روپے کے ایک بڑے منصوبے کی منظوری ملی، جبکہ اس شعبے میں پہلے سے تجربہ رکھنے والی دیگر کمپنیوں کو نظر انداز کیا گیا۔
انہوں نے کمپنی کے مالیاتی گوشواروں، آڈیٹروں کی بار بار تبدیلی اور واجب الادا رقوم کے ریکارڈ پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کے مطابق کمپنی نے کئی برسوں کے دوران 15.15 لاکھ کروڑ روپے کے کاروبار کا دعویٰ کیا، لیکن متعلقہ اداروں نے اس کی گہرائی سے جانچ نہیں کی۔ پون کھیڑا نے کہا کہ اگر اتنے بڑے پیمانے پر مالی سرگرمیاں ظاہر کی جا رہی تھیں تو ان کی تصدیق اور نگرانی ہونی چاہیے تھی۔
کانگریس ترجمان نے الزام لگایا کہ کمپنی نے جانچ کے دوران مکمل تعاون بھی نہیں کیا۔ ان کے مطابق غیر ملکی ذیلی اداروں اور مالیاتی ریکارڈ سے متعلق معلومات مانگے جانے کے باوجود ضروری دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں، جس سے شکوک مزید گہرے ہوئے۔
پون کھیڑا نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ، مرکزی تفتیشی بیورو، سنجیدہ دھوکہ دہی جانچ دفتر، مالیاتی انٹیلی جنس یونٹ اور دیگر اداروں کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے معاملے میں ان اداروں کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پورے معاملے کی شفاف جانچ کرائی جائے، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور سرمایہ کاروں کو ہونے والے نقصان کی مکمل حقیقت عوام کے سامنے لائی جائے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
