20 دنوں سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے سونم وانگچک سے پون کھیڑا نے کی ملاقات، وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا کیا مطالبہ
کھیڑا نے کہا کہ ’’ہم سب سونم وانگچک کی صحت کو لے کر فکرمند ہیں۔ ہم سب ایک انتہائی غیر حساس حکومت سے لڑ رہے ہیں، جو جمہوری زبان نہیں سمجھتی۔ ایسی حکومت کے سامنے احتجاج کا طریقہ بدلتے رہنا چاہیے۔‘‘

نیٹ پیپر لیک معاملہ پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے گزشتہ 20 دنوں سے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کا غیر معینہ بھوک ہڑتال جنتر منتر پر جاری ہے۔ آج ان سے کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے ملاقات کی۔ یہ پہلی بار ہے جب سونم وانگچک سے ملاقات کے لیے کانگریس کا کوئی بڑا لیڈر جنتر منتر پہنچا ہے۔ اس ملاقات کے دوران پون کھیڑا نے سونم وانگچک کے مطالبات پر کانگریس کی حمایت کا اظہار کیا۔
اس ملاقات کے بعد پون کھیڑا نے مودی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ’’ہم سب سونم وانگچک کی صحت کو لے کر فکرمند ہیں۔ ہم سب ایک انتہائی غیر حساس حکومت سے لڑ رہے ہیں، جو جمہوری زبان نہیں سمجھتی۔ ایسی حکومت کے سامنے احتجاج کا طریقہ بدلتے رہنا چاہیے۔ اس حکومت کے خلاف اپنی جان خطرے میں ڈالنے سے کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔‘‘ دراصل سونم وانگچک کی طبیعت دن بہ دن بگڑتی جا رہی ہے اور ڈاکٹروں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ وہ بھوک ہڑتال ختم نہیں کریں گے تو کچھ جسمانی اعضا فیلیور ہو سکتے ہیں۔
سونم وانگچک سے ملنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے پون کھیڑا نے کہا کہ ’’ہم ’چھاتروں کی گونج‘ نام سے ایک مہم چلا رہے ہیں۔ ہمارے لوگ سڑکوں، کیمپس اور ہر جگہ اس مسئلے کو فعال طور پر اٹھا رہے ہیں۔ ہم صرف دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ نہیں کر رہے، بلکہ امتحانات میں شفافیت کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی مستقل طلبا کے اہم ایشوز کو اٹھا رہے ہیں۔ خاص طور سے پیپر لیک اور امتحانات میں بے ضابطگی کے خلاف آوازیں اٹھائی جا رہی ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ کانگریس لیڈر پون کھیڑا سے قبل پارٹی کے سینئر لیڈر کے سی وینوگوپال بھی گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں سونم وانگچک کی حمایت کا اعلان کر چکے ہیں۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں لکھا تھا کہ ’’کانگریس گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے (وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا) یہ مطالبہ کر رہی ہے۔ خصوصاً نظامِ امتحان کے پوری طرح سے ٹوٹ جانے اور مودی حکومت میں جوابدہی کی کمی کو لے کر وانگچک جی جو درد اور غصہ محسوس کر رہے ہیں، اس میں ہم بھی ان کے ساتھ ہیں۔‘‘ انھوں نے یہ بھی لکھا کہ ’’وانگچک کی صحت کو دیکھتے ہوئے ہم ان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کریں۔ وہ جو فکر کر رہے ہیں، اس کی فکر ہمیں بھی ہے اور دوسری اپوزیشن پارٹیوں کو بھی ہے۔ بھروسہ رکھیے، ہم مودی حکومت کی مخالفت جاری رکھیں گے اور وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے رہیں گے۔‘‘
واضح رہے کہ سونم وانگچک کی جان کو لاحق خطرہ کے بعد سماجوادی پارٹی اور عام آدمی پارٹی سمیت کئی سیاسی پارٹیوں کے لیڈران نے اپنے بیان میں مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ اب کانگریس لیڈر پون کھیڑا کی سونم سے ملاقات کئی معنوں میں اہم تصور کی جا رہی ہے۔ گزشتہ 3 ہفتوں میں شیوسینا یو بی ٹی، ترنمول کانگریس، سی پی آئی، سی پی آئی-ایم ایل اور آر جے ڈی لیڈران کی طرف سے بھی وانگچک کی حمایت میں بیانات آ چکے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
