ایم جے اکبر ہتک عزت معاملہ: پریا رمانی کو سمن کرنے پر فیصلہ محفوظ

صحافی پریا رمانی نے ایم جے اکبر پر جنسی استحصال کے الزامات لگائے تھے، جس کے بعد ایم جے اکبر نے رمانی پر ہتک عزت کا معاملہ درج کرا دیا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: دہلی کی پٹیالہ ہاؤس عدالت نے سابق مرکزی وزیر ایم جے اکبر کے ہتک عزت معاملے میں صحافی پریا رمانی کو سمن کیے جانے پر 29 جنوری کے لئے فیصلہ محفوظ رکھا۔

صحافی رمانی نے ایم جے اکبر پر جنسی استحصال کے الزامات لگائے تھے۔ اس کے بعد ایم جے اکبر نے رمانی پر ہتک عزت کا معاملہ درج کرایا تھا۔ ایم جے اکبر نے جنسی استحصال کے الزام لگائے جانے کے بعد گزشتہ برس 17 اکتوبر کو وزیر مملکت برائے خارجی امور کے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔

ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ سمر وشال نے اس معاملے میں ایم جے اکبر کے خلاف ایڈوکیٹ گیتا لوتھرا کی جرح کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں چل رہی می ٹو مہم کے تحت پریا رمانی نے ایم جے اکبر پر 20 سال قبل ان کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام لگائے تھے۔ اگرچہ ایم جے اکبر نے ان الزامات کو یکسر مسترد کردیا تھا۔ گیارہ جنوری کو اس معاملے میں مزید تین گواہوں نے عدالت میں اپنے بیان درج کرائے تھے۔ ایم جے اکبر سمیت کل سات لوگوں نے اس معاملے میں بیان درج کرائے ہیں۔

پچھلی سماعت کے دوران ایم جے اکبر نے عدالت میں کہا تھا کہ انہوں نے پریا رمانی کی طرف سے ان کے خلاف کیے گئے ٹوئٹس کی بنا پر ہتک عزت کا مقدمہ درج کرایا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بیرون ملک سے واپس لوٹنے کے بعد پہلی مرتبہ معاملہ ان کے نوٹس میں آیا۔

کورٹ میں اکبر نے خود کی لکھی کئی کتابیں پیش کیں اور اپنی تعلیمی، صحافتی اور سیاسی کامیابیوں کا بھی ذکر کیا تھا۔ اکبر نے کہا تھا کہ پریا رمانی کی طرف سے 10 اور 13 اکتوبر کو کیے گئے ٹوئٹس کے خلاف انہوں نے ہتک عزت کا مقدمہ درج کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ٹوئٹس کو کافی میڈیا کوریج حاصل ہوئی تھی حالانکہ انہوں نے جو مضمون لکھا تھا اس میں میرا نام نہیں ہے۔‘‘

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)