پتنجلی پر ناقص گائے کا گھی بیچنے کا الزام ثابت، عدالت نے 1.40 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا
پتنجلی کے گائے کے گھی کا نمونہ دو لیب ٹیسٹ میں فیل ہونے پر پتھوراگڑھ کورٹ نے کمپنی، ڈسٹریبیوٹر اور دکان پر مجموعی طور پر 1.40 لاکھ جرمانہ عائد کیا۔ رپورٹ میں گھی کو صحت کے لیے مضر قرار دیا گیا تھا

پتنجلی اور اس سے وابستہ دو دیگر کمپنیوں کو ناقص معیار کا گائے کا گھی فروخت کرنے کے معاملے میں 1.40 لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی اتراکھنڈ کے محکمۂ خوراک و ادویات کی جانب سے کی گئی، جس نے 2020 میں لیے گئے ایک نمونہ کی بنیاد پر یہ فیصلہ سنایا۔ رپورٹ کے مطابق، محکمہ کے اسسٹنٹ کمشنر آر کے شرما نے بتایا کہ یہ نمونہ معمول کی جانچ کے دوران پتھوراگڑھ کے علاقے کسنی میں واقع ’کرن جنرل اسٹور‘ سے حاصل کیا گیا تھا۔
شرما کے مطابق، یہ نمونہ سب سے پہلے ردرپور میں واقع ریاستی فوڈ لیب بھیجا گیا جہاں رپورٹ میں واضح کہا گیا کہ گھی خوراک کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ لیب کے مطابق، اس گھی کے استعمال سے صارفین کی صحت متاثر ہو سکتی ہے اور یہ بیماری کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ محکمہ نے اس رپورٹ کی بنیاد پر 2021 میں پتنجلی کمپنی کو نوٹس بھیجا مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
بعد ازاں کمپنی کے نمائندوں نے خود نمونہ کی دوبارہ جانچ کا مطالبہ کیا اور اسے کسی مرکزی لیب میں ٹیسٹ کرانے کی درخواست کی۔ اس مقصد کے لیے کمپنی سے 5000 روپے فیس بھی وصول کی گئی۔ اس کے بعد 16 اکتوبر 2021 کو محکمہ کے افسران کی ٹیم غازی آباد کی نیشنل فوڈ لیب پہنچی جہاں گھی کا دوبارہ تجزیہ کیا گیا۔ 26 نومبر 2021 کو جاری رپورٹ میں بھی گھی کو معیار پر ناکام قرار دیا گیا۔
محکمہ نے دونوں رپورٹس کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد 17 فروری 2022 کو معاملہ عدالت میں پیش کیا۔ جمعرات کو پتھوراگڑھ کے ایڈجیوڈی کیٹنگ آفیسر اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ یوگیندر سنگھ نے فیصلہ سناتے ہوئے پتنجلی آیوروید لمیٹڈ پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔ اس کے علاوہ ڈسٹریبیوٹر ’برہما ایجنسی‘ پر 25 ہزار روپے اور ’کرن جنرل اسٹور‘ یعنی وہ دکان جہاں سے نمونہ لیا گیا تھا، اس پر بھی 15 ہزار روپے جرمانہ لگایا گیا۔
عدالت میں فوڈ سیفٹی آفیسر دلیپ جین نے تمام شواہد اور لیب رپورٹس پیش کیں، جن کی بنیاد پر جرم ثابت ہوا۔ محکمۂ خوراک کے مطابق یہ کارروائی صارفین کی صحت کے تحفظ کے لیے ضروری تھی اور فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر اسی طرح سخت اقدامات جاری رہیں گے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔