کیوں ہیں ہوائی جہاز کے مسافر خوفزدہ ؟

62 فیصد دوسرے مسافروں کے مناسب فاصلے نہ رکھنے کے بارے میں فکر مند ہیں، 55 فیصد ریاستوں کے ذریعہ قرنطین کے قواعد کے بارے میں اور55 فیصد کئی مسافروں کے درمیان بیٹھے کے لئے فکر مند ہیں۔

تصویر وستارا 
تصویر وستارا
user

یو این آئی

گھریلو ایئر لائن سروس کے شروع ہونے کے قریب دو ماہ بعد بھی مسافروں کو انفیکشن کا خوف ستا رہاہے، حالانکہ زیادہ تر مسافر ہوائی اڈوں اور ہوائی جہاز پر کیے جانے والے احتیاطی انتظامات سے خوش ہیں اور ہوائی جہاز کو نقل و حمل کا سب سے محفوظ ذریعہ تسلیم کرتے ہیں۔

ملک کی دو ایئرلائن کمپنیاں وستارا اور انڈیگو کے الگ الگ سروے سے یہ انکشاف ہوا ہے۔ انڈیگو سروے میں کہا گیا ہے کہ 62 فیصد دوسرے مسافروں کے مناسب فاصلے نہ رکھنے کے بارے میں فکر مند ہیں، 55 فیصد ریاستوں کے ذریعہ قرنطین کے قواعد کے بارے میں اور55 فیصد کئی مسافروں کے درمیان بیٹھے کے لئے فکر مند ہیں۔


وستارا کے سروے میں 46 فیصد مسافروں نے طیارے کے اندر انفیکشن کا خدشہ ظاہر کیا۔ چیک ان اور سیکیورٹی چیک کے دوران انفیکشن کا خدشہ 24 فیصد کو اور 11 فیصد مسافروں کو جہاز میں سوار اور جہاز سے اترتے وقت انفیکشن کا خدشہ دماغ میں رہتا ہے۔

انڈیگو نے اطلاع دی کہ اس کے باوجود، 68 فیصد مسافر ہوائی سفر کو نقل و حمل کا سب سے محفوظ طریقہ ذریعہ سمجھتے ہیں۔ آٹھ فیصد نے ریل سفر کو اور 24 فیصد نے سڑک کے ذریعہ اپنی گاڑی سے سب سے محفوظ بتایاہے۔ باسٹھ فیصد افراد نے کہا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں ایک بار پھر ہوائی کا سفر کریں گے۔ اسی دوران، 38 فیصد مسافر بھی بین الاقوامی پرواز کے آغاز کے منتظر ہیں۔


وستارا کے سروے میں، 65 فیصد مسافروں نے بتایا کہ وہ اگلے چھ ماہ میں پرواز کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ پانچ فیصد لوگوں نے کہا ہے کہ اب وہ اگلے سال تک پرواز کے بارے میں سوچیں گے، جبکہ مزید 24 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ صورتحال معمول پر آنے کے لئے انتظار کریں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 17 Jul 2020, 5:35 AM