پارٹیوں کو مجرمانہ پس منظر کے حامل امیدواروں کو ٹکٹ دینے کی وجہ بتانا ہوگی: الیکشن کمیشن

جن پارٹیوں نے مجرمانہ مقدمات میں ملوث افراد کو ٹکٹ دیا ہے انہیں اب 48 گھنٹوں کے اندر عوامی طور پر یہ بتانا ہوگا کہ انہوں نے ایسے شخص کو ٹکٹ کیوں دیا

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے چیف الیکشن کمشنر / یو این آئی
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے چیف الیکشن کمشنر / یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: جن پارٹیوں نے مجرمانہ مقدمات میں ملوث افراد کو ٹکٹ دیا ہے انہیں اب 48 گھنٹوں کے اندر عوامی طور پر یہ بتانا ہوگا کہ انہوں نے ایسے شخص کو ٹکٹ کیوں دیا اور کیا انہیں کوئی دوسرا امیدوار نہیں ملا جس پر جرم کرنے کا کوئی الزام نہ ہو!

اتر پردیش اور پنجاب سمیت پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کے شیڈول اور انتظامات کا اعلان کرتے ہوئے ہفتہ کے روز چیف الیکشن کمشنر نے بتایا کہ پارٹیوں کو پارٹی کے پورٹل پر ایسے امیدواروں کی خوبیوں اور ان کی کارکردگیوں کے بارے میں اطلاعات دینا ہوں گی۔ انہوں نے بتایا کہ ایسی صورت میں 'جیتنے کا امکان' اس امیدوار کے انتخاب کی بنیاد نہیں ہو سکتا۔


انہوں نے بتایاکہ سپریم کورٹ کے 13 فروری 2020 کے حکم کے پیش نظرمیں سیاسی جماعتوں کو مرکزی اور ریاستی سطح کے انتخابات میں ایسے امیدواروں کے خلاف مقدمات، چارج شیٹ کی حیثیت وغیرہ کی اطلاعات پورٹل پر ڈالنی ہوں گی۔ اس کی اطلاعات مقامی ہندوستانی زبان کے اخبار اور قومی اخبار میں شائع کرنے کے ساتھ ساتھ پارٹی کے ٹویٹر اور فیس بک پیج پر بھی ڈالنی ہوں گی۔

پارٹیوں کو ایسے امیدوار کے انتخاب کے 72 گھنٹے کے اندر ان ہدایات کی تعمیل سے آگاہ کرنا ہوگا۔ پارٹیوں کو اپنے پورٹل کے ہوم پیج پر مجرمانہ پس منظر والے امیدواروں کے عنوان سے کالم لگانا ہوگا۔ ان ہدایات کی خلاف ورزی کو عدالت کے حکم کی توہین یا خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔