مسلسل ساتویں دن راجیہ سبھا میں کوئی کام نہیں ہوا، لوک سبھا میں بھی ہنگامہ آرائی

ارکان پارلیمنٹ کے ہنگامے کی وجہ سے راجیہ سبھا کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کر دینی پڑی، اس طرح مسلسل ساتویں دن راجیہ سبھا میں کوئی کام کاج نہیں ہوسکا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس جاری ہے اور دونوں ایوانوں راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں کام کاج نہیں ہو پا رہا ہے۔ ایک طرف لوک سبھا میں جہاں کانگریس سمیت دیگر حزب اختلاف کی جماعوں نے ہنگامہ آرائی کی ادھر راجیہ سبھا کو زبردست ہنگامہ کے بعد دن بھر کے لئے ملتوی کر دینا پڑا۔

رافیل معاملے کی جانچ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) سے کرانے کی اپوزیشن کی مانگ اور کاویری پر ڈیم کی تعمیر کئے جانے کی مخالفت میں اناڈی ایم کے اور ڈی ایم کے ارکان کے ہنگامے کی وجہ سے آج بھی راجیہ سبھا کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کر دینی پڑی۔ اس طرح مسلسل ساتویں دن راجیہ سبھا میں کوئی کام کاج نہیں ہوسکا۔

صبح مختلف وزارتوں کے کاغذات، رپورٹ اور وزرا کے بیان ایوان کے ٹیبل پر رکھے جانے کے بعد چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے ایوان کو مطلع کیا کہ گذشتہ دنوں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر آنند شرما نے ضابطہ کا سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ پارلیمانی امور کے وزیر مملکت وجے گوئل نے لوک سبھا میں، کانگریس کے رکن راہل گاندھی کو رافیل کے معاملے میں معافی مانگنے بات کہی تھی، لیکن ایوان کے ریکارڈ کو دیکھنے کے بعد پتہ چلا کہ گوئل نے ایسی بات نہیں کہی تھی، لہذا، شرما نے گویل کے خلاف خصوصی مراعات کا نوٹس دیا تھا وہ منسوخ کیا جاتا ہے۔

شرما نے فورہ طور پر اپنی غلطی تسلیم کرلی ہے لیکن انہوں نے اپنی صفائی میں کہا کہ شورو غل میں انہیں صحیح طریقے سے سنائی دیا کیونکہ سیٹ میں لگے مائک سے ایسی ہی سنائی دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حزب اقتدار کے رکن کے ہاتھ میں تختیاں لئے تھے جس پر گاندھی سے راہل معاملے میں معافی مانگنے کی بات لکھی گئی تھی اور وہ ایسی باتیں کہہ بھی رہے تھے اس لیے انہیں صاف صاف سنائی نہیں دیا۔

ادھر لوک سبھا میں ہنگامہ آرائی کے بعد 12 بجے کارروائی کا آغاز ہوا تو بھی ہنگامہ بدستور جاری رہا۔ کانگریس، اے آئی اے ڈی ایم کے اور ٹی ڈی پی کے ارکنا نے لوک سبھا اسپیکر کی نشست کے سامنے جا کر نعرے بازی کرنے لگے۔ دریں اثنا بی جے پی کے ارکان نے بھی ویل میں پہنچ کر نعرے بازی کی۔ بی جے پی کے ارکان رافیل معاملہ پر عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کے تناظر میں کانگریس کے صدر راہل گاندھی سے معذرت کا مطالبہ کر رہے تھے۔

ادھر کانگریس کے ارکان نے رافیل معاملہ کی جانچ کے لئے مشترکہ جانچ کمیٹی (جے پی سی) کی تشکیل کی مانگ کرتے ہوئے نعرےبازی کی۔ ارکان کے ہنگامہ کے دوران ہی اسپیکر نے ضروری کاغذات میز پر رکھوائے۔ دریں اثنا وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے 2018-19 کے لئے فنڈ کی سپلیمنٹری مانگ کے حوالہ سے تفصیلات پیش کیں۔ جیٹلی نے ایوان میں کمپنی (ترمیمی) بل-2018 بھی پیش کیا۔