سرمائی اجلاس سے قبل بی جے پی میں گھبراہٹ، مودی حکومت کی میٹنگوں کا سلسلہ شروع

بے حد کم مدت کے سرمائی اجلاس میں تین طلاق اور این آر سی سمیت سمیت 46 بلوں کو پیش کیا جانا ہے لیکن بی جے پی کا درد سر یہ ہے کہ اس کے دو اتحادی پاسوان اور نتیش طلاق ثلاثہ بل کے حق میں نہیں ہیں۔

By اوما کانت لکھیڑا

مودی حکومت کی مدت کار مکمل ہونے کے قبل اب کچھ وقت کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی رسومات پوری ہونی ہیں۔ پارلیمنٹ کے اجلاس کا دور شروع ہو چکا ہے۔ ہوا کا رخ 5 ریاستوں کے انتخابات پر منحصر ہے۔ 8 جنوری 2019 تک چلنے والا بجٹ اجلاس 11 دسمبر 2018 سے شروع ہونے جا رہا ہے۔ محض 20 دن چلنے والے اس اجلاس میں 46 بلون کو پیش کیا جانا ہے اور 5 ریاستوں کے انتخابی نتائج بھی 11 دسمبر کو آنے ہیں۔ ایسے حالات میں اگر نتائج بی جے پی کے حق میں نہیں آئے تو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر حکومت کو مشتعل حزب اختلاف اور این ڈی اے کے اتحادیوں کی قدم قدم پر مخالفت برداشت کرنی پڑے گی۔

تین طلاق اور آسام میں شہریوں کی شناخت سے متعلق آرڈیننسز کو بلوں کے طور پر دوبارہ پیش کر کے مودی حکومت کو اسی اجلاس میں دونوں ایوانوں کی اجازت لینی ہے۔ بی جے پی کے لئے بڑا درد سر یہ ہے کہ بہار کے اس کے دونوں اتحادی رام ولاس پاسوان اور نتیش کمار تین طلاق بل کے حق میں نہیں ہے جبکہ پنجاب کی ’اکالی دل‘ اس معاملہ میں غیر جانبدار ہے۔ اتنا ہی نہیں رام مندر مہم پر بھی پاسوان پہلی مرتبہ مودی حکومت پر کھلے عام حملہ آور ہو رہے ہیں۔

دوسری جانب نتیش کمار کے نزدیکی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کسی بھی مذہب کے اندرونی معاملات کو لے کر متوازی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے اور کامن سول کوڈ کے معاملہ میں بی جے پارٹی کے رُخ سے بخوبی واقف ہے۔ وزیر اعظم مودی سے کئی مرتبہ ملاقات کا وقت مانگنے کے باوجود سکھبیر سنگھ بادل کو وقت نہیں ملنے سے اکالی دل علیحدہ سے خفا ہے۔

پارلیمانی امور کے وزیر نریندر سنگھ تومر نے 10 دسمبر کو صبح 11 بجے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں کل جماعتی میٹنگ طلب کی ہے۔ اسی دن 12.30 بجے راجیہ سبھا کے چیئرمین اور نائب صدر وینکیا نائیڈو نے اپنی رہائش پر ایوان بالا میں تمام سیاسی جماعتوں کو لنچ پر مدعو کیا ہے۔ لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے 11 دسمبر کو شام 4.30 بجے پارلیمنٹ ہاؤس کی لائبریری میں اقتدار اور حزب اختلاف کی تمام پارٹیوں کو مدعو کیا گیا ہے۔ وہیں پارلیمانی امور کی وزارت کے ذرائع کے مطابق تاحال ایوان کی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کا وقت طے نہیں کیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں ہی مختلف بلوں کے لئے وقت طے کیا جانا ہے۔

بی جے پی اور این ڈی اے میں سب سے زیادہ میٹنگوں کا دور چل رہا ہے۔ پارٹی کی مجلس عاملہ کی میٹنگ 10 دسمبر کو 3 بجے طے کی گئی ہے۔ اس کے ایک گھنٹے کے بعد این ڈی اے کی اتحادی جماعتوں کا اجلاس ہوگا۔ مودی حکومت کی توجہ 10 دسمبر کو دہلی میں غیر بی جے پی جماعتوں کے اجلاس پر مرکوز ہوگی۔ اس کا اصل ایجنڈہ اگلے دن 11 تاریخ کو ممکنہ انتخابی نتائج کا جائزہ اور اس کے بعد کی حکمت عملی تیار کرنا ہوگا۔ آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندرا بابو نائیڈو دہلی پہنچ رہے ہیں۔ 10 دسمبر کو اتحاد کی مجوزہ میٹنگ سے قبل ان کی کانگریس صدر راہل گاندھی سے اہم ملاقات کا امکان ہے۔