پارلیمنٹ: مانسون اجلاس ختم، کئی اہم بل منظور لیکن طلاق ثلاثہ بل پھر لٹکا

اس اجلاس میں راجیہ سبھا نے اپنے نئے ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب کیا، 6 آرڈیننس کی جگہ لائے گئے بل منظور ہوئے لیکن طلاق ثلاثہ بل ایک بار پھر لٹک گیا۔

نئی دہلی: پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس اختتام پذیر ہوا، جس کے دوران قومی پسماندہ طبقہ کمیشن (این سی بی سی) کو آئینی درجہ دینے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں کمزور ہونے والے درج فہرست (ایس سی/ ایس ٹی) انسداد مظالم ایکٹ کو اصل شکل میں لانے نیز رشوت لینے یا دینے کو بھی جرم کے زمرے میں رکھنے سے متعلق کچھ اہم بلوں کو منظوری دی گئی۔

اٹھارہ جولائی سے شروع ہونے والے مانسون اجلاس کے دوران لوک سبھا میں مودی حکومت کے خلاف پہلی بار تحریک عدم اعتماد لایا گیا تھا، جس پر تقریباً پونے 12 گھنٹے کی بحث ہوئی اور آخر میں یہ تحریک گر گئی۔ 6 آرڈیننس کی جگہ لائے گئے بل بھی منظور ہوئے، لیکن تین طلاق سے متعلق بل ایک بار پھر لٹک گیا۔ اسی سیشن میں راجیہ سبھا نے اپنے نئے ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب بھی کیا۔

اس دوران دونوں ایوانوں کی17-17 نشستیں ہوئیں اور دونوں میں ہی گزشتہ سیشن کے مقابلے بہتر کام ہوا۔ لوک سبھا میں 112 گھنٹے کام ہوا، جبکہ رکاوٹ کی وجہ سے آٹھ گھنٹے 26 منٹ کا وقت برباد بھی ہوا۔ راجیہ سبھا میں 27 گھنٹے کا وقت ضائع ہوا۔ دونوں ایوانوں میں 22 بل پیش ہوئے۔ لوک سبھا نے 21 بل منظور کئے، جبکہ راجیہ سبھا سے 14 بل ہی پاس ہوسکے۔

دونوں ایوانوں میں منظورہونے والے بلوں میں ایس سی/ ایس ٹی انسداد مظالم ترمیمی بل 2018، آئین (123 ویں ترمیم) بل2017، بارہ سال سے کم عمر بچیوں کی عصمت دری کے معاملے میں پھانسی کی سزا کا التزام والا فوجداری طریقہ کار(ترمیمی) بل 2018، بھگوڑے اقتصادی مجرم کے انسداد بل 2018، انسداد بدعنوانی (ترمیمی) بل 2018 اور قومی کھیل یونیورسٹی بل 2018 جیسے اہم ترین بل شامل ہیں۔

اس سیشن میں آسام میں قومی شہری رجسٹر (این آر سی) کے مسئلے پر دونوں ایوانوں میں جم کر ہنگامہ ہوا اور رافیل دفاعی سودے پر بھی اپوزیشن نے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) قائم کرنے کی مانگ پر ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالا۔

سب سے زیادہ مقبول