پارلیمنٹ اور 140 کروڑ عوام کو ہند-امریکہ تجارتی معاہدے کی سچائی جاننے کا حق ہے: ملکارجن کھڑگے

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ہند-امریکہ تجارتی معاہدے کی تفصیلات ظاہر نہ کرنے پر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور سوال اٹھایا کہ امریکہ کے دباؤ میں کوئی سمجھوتہ کیا گیا ہے یا نہیں!

<div class="paragraphs"><p>کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے / تصویر آئی این سی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ہند-امریکہ تجارتی معاہدے کے معاملے پر مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ اور 140 کروڑ عوام کو اس معاہدے کی مکمل سچائی جاننے کا حق ہے۔ انہوں نے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا کہ ہندوستان اور امریکہ گزشتہ کئی برسوں سے مشترکہ اقدار پر مبنی جامع عالمی تزویراتی شراکت داری سے جڑے ہوئے ہیں لیکن ایسے اہم معاہدوں میں شفافیت بنیادی شرط ہونی چاہیے۔

کھڑگے نے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور میں طے پانے والے ہند-امریکہ جوہری معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اُس وقت کانگریس کی قیادت والی متحدہ ترقی پسند اتحاد حکومت نے ہر مرحلے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا تھا۔ ان کے مطابق اُس تاریخی معاہدے کے مختلف سمجھوتوں پر کھلے مباحث ہوئے اور حکومت نے پارلیمانی روایت کا احترام کیا، جو باہمی ترقی کے عزم کی مثال تھا۔


انہوں نے موجودہ صورتحال کو اس کے برعکس قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ تجارتی معاہدے کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیا گیا مگر ملک کو اس کی کسی بھی شق یا شرط کی تفصیل معلوم نہیں ہے۔ کھڑگے نے نشاندہی کی کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے پیغام میں محصولات کم کر کے اٹھارہ فیصد کیے جانے پر شکریہ ادا کیا لیکن معاہدے کی اصل نوعیت پر خاموشی اختیار کی۔

کانگریس صدر نے کہا کہ جب پارلیمنٹ کا اجلاس جاری ہے تو حکومت کو ایوان کے اندر بیان دینا چاہیے تھا، نہ کہ کسی بیرونی پلیٹ فارم پر معاہدے کا ذکر کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا امریکہ کے دباؤ میں ہندوستان نے کسی بھی طرح کا سمجھوتہ کیا ہے اور کیا امریکی درآمدات پر صفر محصولات کی منظوری دی گئی ہے جیسا کہ دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

کھڑگے نے کسانوں کے مفادات کے تحفظ پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا زرعی شعبے کو مکمل یا جزوی طور پر امریکی زرعی منڈی کے لیے کھولا جا رہا ہے اور اس کا دیہی معیشت پر کیا اثر پڑے گا۔


مزید برآں انہوں نے روس سے تیل کی خریداری کے معاملے پر وضاحت طلب کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا ہندوستان اس سلسلے میں کوئی تبدیلی کرنے جا رہا ہے اور روس کو اس بارے میں کیا پیغام دیا گیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت فوری طور پر پارلیمنٹ میں تفصیلی بیان دے اور تمام ابہام دور کرے تاکہ عوام کو حقیقت سے آگاہ کیا جا سکے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔