بچوں کی تعلیم کے لیے والدین کی قربانی، گائے فروخت کر خریدا اسمارٹ فون

ہماچل کے کانگڑا ضلع واقع جوالامکھی تحصیل کے کلدیپ کمار کو اپنے بچوں کی آن لائن پڑھائی کے لیے اسمارٹ فون خریدنا اتنا ضروری تھا کہ کمائی کا ذریعہ اپنی گائے بے حد کم قیمت پر فروخت کر دی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

بی جے پی حکمراں ریاست ہماچل پردیش میں ایک غریب فیملی کو بچوں کی آن لائن پڑھائی کے لیے ایک اسمارٹ فون خریدنے کی ضرورت پڑی اور اس کے لیے اس نے اپنی گائے فروخت کر دی جو کہ آمدنی کا واحد ذریعہ تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ شیڈولڈ کاسٹ سے تعلق رکھنے والے کلدیپ کمار کو اپنے بچوں کی آن لائن تعلیم کے لیے اسمارٹ فون خریدنا اتنا ضروری تھا کہ فیملی کی آمدنی کا واحد ذریعہ رہی گائے محض 6000 روپے میں فروخت کرنی پڑی۔

کلدیپ کانگڑا ضلع کے جوالامکھی تحصیل واقع گمّر گاؤں میں ایک گئوشالہ میں رہتا ہے۔ اس کی بیٹی انو اور بیٹا وَنش ایک سرکاری اسکول میں بالترتیب چوتھے اور دوسرے کلاس میں پڑھتے ہیں۔ ریاست میں کورونا وبا کے مدنظر حکومت کے حکم پر ریاست بھر کے اسکولوں نے آن لائن کلاسز لینا شروع کی ہیں۔ ایسے میں ان کے پاس اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ نہ ہونے سے بچے پڑھ نہیں سکتے تھے۔


کلدیپ نے بتایا کہ "میں بچوں کی پڑھائی جاری رکھنے کے لیے جب اسمارٹ فون نہیں خرید پا رہا تھا تو اپنی ایک گائے کو 6 ہزار روپے میں فروخت کرنے کا فیصلہ کیا۔" اس کا کہنا ہے کہ وہ گائے کا دودھ فروخت کر کے ہی اپنی روزی روٹی حاصل کرتا ہے اور اس کی بیوی ایک دہاڑی مزدور ہے۔ کلدیپ کا کہنا ہے کہ گائے فروخت کرنے سے پہلے وہ اسمارٹ فون خریدنے کے لیے بینکوں اور نجی قرض دہندگان کے پاس قرض لینے کے لیے بھی گئے تھے۔

بہر حال، کلدیپ نے اب گائے فروخت کر دی ہے لیکن مسئلہ پھر بھی برقرار ہے کیونکہ ایک فون سے دو بچوں کی پڑھائی نہیں ہو پا رہی ہے۔ وہیں یہ بھی پتہ چلا کہ کلدیپ کو ویسے کوئی سرکاری فائدہ نہیں مل رہا ہے جو غریبوں کو دیے جاتے ہیں۔ کلدیپ کمار کی خراب مالی حالت کے بارے میں جب مقامی بی جے پی رکن اسمبلی رمیش دھوالا کو بتایا گیا تو انھوں نے سرکاری مدد دینے کی یقین دہانی ضرور کرائی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 24 Jul 2020, 9:11 AM