’پیپر لیک نے 22 لاکھ نوجوانوں کا مستقبل تباہ کر دیا، ذمہ دار کون؟‘ سنجے سنگھ کا مرکزی حکومت پر حملہ

عآپ لیڈر سنجے سنگھ نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے دور اقتدار میں اب تک 93 پیپر لیک کے معاملے سامنے آئے ہیں جن میں سے زیادہ تر بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں ہوئے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>سنجے سنگھ، تصویر&nbsp;@AamAadmiParty</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

عام آدمی پارٹی (اے اے پی) راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے ملک میں لگاتار سامنے آرہے پیپر لیک معاملات کے حوالے سے مرکزی حکومت پر حملہ بولتے ہوئے سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔  انہوں کہا کہ کہا کہ پیپر لیک کے واقعات نے 22 لاکھ سے زائد نوجوانوں کا مستقبل برباد کر دیا ہے لیکن اب تک کسی بڑے ذمہ دار شخص کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ اے اے پی کے لیڈر سنجے سنگھ نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے دور اقتدار میں اب تک 93 پیپر لیک کے معاملے سامنے آئے ہیں جن میں سے زیادہ تر بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں ہوئے ہیں۔

سنجے سنگھ نے کہا کہ ان واقعات سے لاکھوں طلبہ ذہنی تناؤ اور مایوسی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسی دوران انہوں نے انشیکا پانڈے نام کی ایک طالبہ کا ذکر کیا، جو تیسری بار امتحان دے رہی تھی۔ پچھلی بار وہ صرف 4 نمبروں سے امتحان میں منتخب ہونے رہ گئی تھی۔ اس باراسے پوری امید تھی کہ اس کا انتخاب ہوجائے گا لیکن امتحان منسوخ ہونے کے بعد اس نے خودکشی کر لی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ یہ صرف خودکشی نہیں ہے بلکہ نظام کی ناکامی ہے جس نے ایک طالبہ کی زندگی چھین لی۔


اے اے پی ایم پی نے کہا کہ حکومت نے پیپر لیک کو روکنے کے لیے قوانین ضرور بنائے ہیں، لیکن وہ زمین پراثر دار ثابت نہیں ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پیپر لیک کا کاروبار مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر ملک کے نوجوانوں کے ٹوٹتے خوابوں اور ان کی موت کا ذمہ دار کون ہے؟ سنجے سنگھ نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس معاملے میں سخت کارروائی کرے اور ایسا نظام قائم کرے جس سے نوجوانوں کا مستقبل محفوظ رہ سکے۔