اسٹالن سے ناراض پنیرسیلوم جلد تھام سکتے ہیں تھلاپتی وجئے کی پارٹی ٹی وی کے کا دامن

پنیرسیلوم تمل ناڈو اسمبلی انتخاب سے قبل اپنے بیٹے کے ساتھ ڈی ایم کے میں شامل ہوئے تھے۔ لیکن اب تک نہ تو انہیں اور نہ ہی ان کے بیٹے کو پارٹی کی جانب سے کوئی ذمہ داری دی گئی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>او پنیرسیلوم، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

تمل ناڈو کے سابق وزیر اعلی اور رکن اسمبلی او پنیرسیلوم ڈی ایم کے سے ناراض ہو گئے ہیں۔ ان کی ناراضگی کی وجہ اسٹالن کی جانب سے ڈی ایم کے میں کوئی بڑی ذمہ داری نہیں دی جانی ہے۔ پنیرسیلوم تمل ناڈو اسمبلی انتخاب سے قبل اپنے بیٹے کے ساتھ ڈی ایم کے میں شامل ہوئے تھے۔ لیکن اب تک نہ تو انہیں اور نہ ہی ان کے بیٹے کو پارٹی کی جانب سے کوئی ذمہ داری دی گئی ہے۔ در اصل پنیرسیلوم اپنے انتخابی حلقے میں ہی ذمہ داری چاہتے ہیں۔ انہوں نے ’تھینی سیٹ‘ سے اسمبلی انتخاب بھی جیتا تھا۔ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں تھینی لوک سبھا میں کوئی اہم ذمہ داری دی جائے۔ لیکن وہاں سے ’ڈی ایم کے‘ کے رکن پارلیمنٹ تھنگا تمل سیلوم کے اثر کو دیکھتے ہوئے اسٹالن نے ایسا نہیں کیا اور تھنگا تمل سیلوم ہی وہاں پارٹی کا کام دیکھ رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اسی وجہ سے پنیرسیلوم ڈی ایم کے سے ناراض ہیں، اور اپنے بیٹے او پی رویندر ناتھ کے ساتھ پارٹی سے نکلنا چاہتے ہیں۔ قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ وہ تھلاپتی وجئے کی پارٹی ٹی وی کے میں شامل ہو سکتے ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ جلد ہی اس کا اعلان بھی کر دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ جے للتا کی پارٹی ’اے آئی اے ڈی ایم کے‘ تمل ناڈو میں اس بار کے اسمبلی انتخاب میں تیسرے مقام پر پہنچ گئی ہے۔ اے آئی اے ڈی ایم کے کے 4 سابق وزراء اور کئی اراکین اسمبلی نے پارٹی چھوڑ کر ٹی وی کے جوائن کر لیا ہے۔


اے آئی اے  ڈی ایم کے کے تقریباً 25 اراکین اسمبلی نے وہپ جاری ہونے کے باوجود فلور ٹیسٹ کے دوران ٹی وی کے کو حمایت دی تھی۔ اس کے علاوہ 3 اراکین اسمبلی نے استعفیٰ دے کر ٹی وی کے جوائن کر لیا۔ اسمبلی انتخاب میں وجئے کی پارٹی کو 108 سیٹوں پر کامیابی ملی تھی۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر ڈی ایم کے تھی۔ اس نے 59 سیٹوں پر جیت حاصل کی تھی۔ تیسرے نمبر پر ’اے آئی اے ڈی ایم کے‘ تھی جسے 47 سیٹیں ملی تھیں۔ اسی طرح کانگریس کو 5 سیٹیں اور پی ایم کے کو 4 سیٹیں ملیں۔ آئی یو ایم ایل، سی پی آئی، وی سی کے، سی پی آئی ایم کو 2-2 سیٹیں ملیں۔ علاوہ ازیں بی جے پی کو ایک، ڈی ایم ڈی کے کو ایک اور اے ایم ایم کے ایم این کے زیڈ کو بھی ایک سیٹ ملی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔