لاک ڈاؤن: دودھ کے ٹینکر میں چھپ کر گاؤں جا رہے مزدور پولس حراست میں

ممبئی کے ضلع پال گھر میں پولس نے ایک ایسے دودھ ٹینکر کو ضبط کیا ہے جس کے اندر دودھ نہ ہو کر انسانوں کو چھپا کر ایک ریاست سے دوسری ریاست بھیجا جا رہا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ملک بھر میں اس وقت لاک ڈاؤن ہے اور کئی شہروں میں تو کرفیو بھی نافذ ہے۔ ایسی صورت میں ان مزدوروں کا اپنے آبائی وطن جانا مشکل ہو رہا ہے جو دہاڑی مزدوری کیا کرتے تھے یا پھر دفاتر میں تعینات تھے۔ لاک ڈاؤن کے درمیان سبھی طرح کے کام بند ہونے کی وجہ سے مزدور اپنے گھروں کو واپس جانا چاہ رہے ہیں لیکن یہ ممکن نہیں ہو پا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ چھپ چھپا کر اپنے گھر کی طرف جانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایک ایسی ہی کوشش ممبئی کے پال گھر ضلع میں ہوئی جسے پولس نے ناکام کر دیا۔

دراصل پال گھر پولس نے ایک ایسے دودھ ٹینکر کو ضبط کیا ہے جس کے اندر دودھ نہ ہو کر انسانوں کو چھپا کر ایک ریاست سے دوسری ریاست بھیجا جا رہا تھا۔ چونکہ دودھ ضروری خدمات والی فہرست میں شامل ہے اس لیے لوگوں کو لگا کہ کسی کو شک نہیں ہوگا اور وہ بہ آسانی اپنے گھر پہنچ جائیں گے۔ لیکن اس منصوبہ کو مقامی پولس نے ناکام بنا دیا۔

بتایا جاتا ہے کہ کچھ لوگ مزدوروں سے پیسے لے کر انھیں ان کے گاؤں پہنچا رہے ہیں۔ ممبئی سے ملحق کلیان سے یہ دودھ کی گاڑی نکلی تھی جس کے اندر تقریباً 12 مزدور بیٹھے ہوئے تھے۔ لیکن پال گھر ضلع کے تلاسری سے گزرنے کے دوران پولس کو کچھ شبہ ہوا اور انھوں نے دودھ کا ٹینکر روکنے کے لیے کہا۔ پولس کو شبہ اس لیے ہوا کیونکہ دودھ کی گاڑی ایک ریاست سے دوسری ریاست میں کس طرح جا سکتی ہے۔ جب پولس نے گاڑی رکوا کر جانچ کی تو پتہ چلا کہ اس کے اندر دودھ نہیں بلکہ انسان بھرے ہوئے ہیں۔ یہ پتہ چلتے ہی پولس نے فوری کارروائی کی اور ٹینکر ڈرائیور کے ساتھ ساتھ سبھی مزدوروں کو بھی حراست میں لے لیا۔ پولس نے دودھ کی گاڑی بھی ضبط کر لی۔ بتایا جاتا ہے کہ جن لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔