اسرائیل نے ہماری زمین ہی نہیں ہمارے وسائل پر بھی قبضہ کر رکھا ہے: فلسطینی سفیر

فلسطینی سفیر نے کہا کہ اسرائیل نے ہمارے سارے حقوق، طاقت، اختیارات کو سلب کر لیا ہے اور ہمارے ساتھ سیاسی طور پر امتیاز کیا جا رہا ہے، روز بروز اسرائیلی تجاوزات میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: مہمان خصوصی اور فلسطین کے سفیر عدنان محمد جابر الہیجہ نے فلسطین کے سنگین مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے نہ صرف ہماری زمین پر بلکہ ہماری آبادی اور ہمارے وسائل پر بھی قبضہ کررکھا ہے۔ انہوں نے یہ بات آل انڈیا تنظیم علمائے حق کے زیر اہتمام آج یہاں ایک قومی کنونشن میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے ہمارے سارے حقوق، طاقت، اختیارات کو سلب کرلیا ہے اور ہمارے ساتھ سیاسی طور پر امتیاز کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روز بروز اسرائیلی تجاوزات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور وہ مشرقی یروشلم میں توسیعی منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے فلسطینی عوام پر تشدد، حملہ، قتل اور مظالم کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور صورت حال اس قدر سنگین ہے کہ کوئی بھی فلسطینی وہاں محفوظ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرقی یروشلم میں اسرائیلی فوج کا انداز بہت جارح ہے۔ انہوں نے کہا کہ آخری دو سال کے دوران اسرائیل نے متعدد بار مسجد اقصی کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی غیر قانونی کارروائی کو روکنا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔

کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے آل انڈیا تنظیم علمائے حق کے قومی صدر اور پروگرام کے کنوینر مولانا اعجاز عرفی قاسمی نے کہا کہ اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنا نہ صرف غلط ہے بلکہ یہ اسلام کی توہین ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پوری دنیا میں کہیں بھی امن وسکون نہیں ہے ہر طرف فضا میں بارود کی بو محسوس ہو رہی ہے، فلسطینیوں پر مظالم کے پہاڑ ڈھائے جارہے ہیں اور ظلم وستم نے عام انسانوں کے ذہن سے پرامن زندگی کے سارے خواب چھین لئے ہیں اور اس طرح کے حالات سے ہمارا ملک بھی محفوظ نہیں ہے۔

ایران کے سفیر ڈاکٹر علی چینگائی نے فسلطین کی ناگفتہ بہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ صرف کسی ملک، یا زمین یا مذہب نہیں ہے بلکہ انسانیت کا مسئلہ ہے اور وہاں بے قصور انسانوں پر حملے کیے جا رہے ہیں اورانہیں قتل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نسل درنسل یہ سلسلہ جاری ہے اور پورے فلسطین کو نشانہ بناکر وہاں انسانی بحران پیدا کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کا حل ہر حال میں ضروری ہے ورنہ انسانی المیوں کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پوری عالمی برادری کو اس سنگین مسئلہ کی طرف توجہ کرنی چاہیے اور وہاں انسانی حقوق کی حفاظت کرنی چاہیے۔

ہمالیہ ڈرگس کے وائس چیرمین اور مشہور سماجی کارکن ڈاکٹر سید فاروق نے ہندوستانی مسلمانوں کے فلسطینی کاز کے عہد کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں نے ہمیشہ سے فلسطینیوں کے لئے لڑائی لڑی ہے اور ساتھ دیتے رہے ہیں اور آئندہ بھی اس مسئلہ سے منسلک رہیں گے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ اس وقت منظرنامہ تبدیل ہوگیا ہے اور فلسطین کو مزید نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور فلسطینی شہریوں پر کارپیٹ بم اور بھاری اسلحہ سے حملہ کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ متعدد ممالک کی بے حسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے ملکوں نے فلسطینیوں کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا ہے کیوں کہ وہاں پیٹرول نہیں ہے۔ اس کے علاوہ مذہبی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جب کہ یہ خالصتاً انسانی مسئلہ ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 21 Feb 2019, 7:09 PM