پاکستان کے وزیر نے اپنے ملک کے ناپاک منصوبے سے خود ہی پردا اٹھا دیا: امریندر سنگھ

وزیراعلی امریندر سنگھ نے کہا کہ ’’کرتار پور گلیارہ کے کھلنے سے ہماری طرف سے ادا کیے گئے شکریہ کو کمزوری پر محمول نہ کیا جائے۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

چنڈی گڑھ: پنجاب کے وزیراعلی کیپٹن امریندر سنگھ نے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیر ریل کی طرف سے کرتاپور گلیارے کھولنے کے پس پردہ وہاں کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے دماغ کی اپج ہونے کے سلسلے کے پس پردہ پاکستان کی سازشی منصوبوں سے پردہ اٹھا دیا ہے۔

پاکستان کے وزیر ریل کی ان باتوں پر سنگین تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلی آج یہاں اس مسئلہ پر اپنے اسٹینڈ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ شیخ رشید نے اس گلیارے کے پس پردہ پاکستان کے ارادوں کو پوری طرح ننگا کر کے رکھ دیا ہے جبکہ ہندوستان کو امید تھی کہ یہ پل دونوں ممالک کے درمیان امن کے پل کی طرح کام کرے گا۔

وزیراعلی نے شیخ رشید کی رائے کا بھی نوٹس لیا ہے کہ ’’یہ گلیارہ ہندوستان کو ٹھیس پہنچائے گا اور کرتارپور گلیارہ کے ذریعہ جنرل باجوہ کے ذریعہ دیئے گئے زخم ہمیشہ چبھتے رہیں گے۔ ‘‘ اسے ہندوستان کی سلامتی اور یکجہتی کے خلاف کھلے عام اور واضح خطرہ قرار دیتے ہوئے کیپٹن امریندر سنگھ نے پاکستان کو وارننگ دی کہ پڑوسی ملک کسی طرح کی غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش نہ کرے۔‘‘ وزیراعلی نے کہا کہ ’’گلیارہ کے کھلنے سے ہماری طرف سے ادا کیے گئے شکریہ کو کمزوری پر محمول نہ کیا جائے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ذریعہ سرحد اور لوگوں پر حملہ کرنے کی کسی بھی کوشش کا ہندوستان منھ توڑ جواب دے گا۔ ہندوستان کسی بھی قیمت پر اس کے خلاف پاکستان کی خطرناک کوششوں کو پورا نہیں ہونے دے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ذریعہ جاری کسی بھی طرح کی کوششوں کا سخت جواب دیا جائے گا۔‘‘

کیپٹن امریندر سنگھ نے کہا ہے کہ وہ ہمیشہ یہی کہتے آئے ہیں کہ ایک سکھ ہونے کے ناطے کرتارپور گلیارہ کھلنے کی انہیں بہت خوشی ہوئی ہے جس سے ہندوستانی عقیدت مند تاریخی گردوارہ کرتارپور صاحب کے درشن کرسکتے ہیں لیکن ساتھ ہی اس سے ہمارے ملک کے خطرات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اس مسئلہ پر مسلسل احتیاط برتنے کی اپیل کی۔ انہوں نے وارننگ دی کہ اس گلیارے کے ذریعہ پاکستانی سکھوں کا دل جیتنے کی کوشش کی جارہی ہے جس سے آئی ایس آئی کی شہ پر ریفرینڈم۔ 2020 کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا جاسکے۔

وزیراعلی نے کہا کہ مختلف عناصر سے یہ پوری طرح واضح ہوچکا ہے کہ بالخصوص یہ کہ باجوہ نے عمران خان کی حلف برداری کی تقریب کے دوران نوجوت سنگھ سدھو سے گلیارہ کی تعمیر سے متعلق پاکستان کے فیصلے کا ذکر کیا تھا۔ عمران خان نے تو اس وقت عہدہ بھی نہیں سنبھالا تھا پھر بھی فوج کے سربراہ نے اس معاملے میں سدھو سے بات کی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ گلیارہ کے پس پردہ باجوہ نہیں تھے۔‘‘ پاکستان کے وزیر کے ذریعہ کیے گئے اس طرح کی باتوں کے سلسلے میں کیپٹن امریندر سنگھ نے نوجوت سنگھ سدھو سے بھی اپیل کی کہ وہ عمران خان حکومت کے ساتھ زیادہ احتیاط برتیں اور پاکستانی وزیراعظم کے ساتھ اپنی نجی دوستی کا کسی بھی ڈھنگ سے اپنے فیصلے پر اثر نہ پڑنے دیں کیونکہ یہ ہندوستان کے مفادات کے لئے خطرناک ہوسکتا ہے۔