پاکستانی صحافی عروسہ عالم پنجاب کے لیڈران سے مایوس ’اب کبھی ہندوستان نہیں آؤں گی‘

پنجاب کے سابق وزیر اعلی امریندر سنگھ اور کانگریس لیڈروں کے درمیان چل رہی زبانی جنگ کے بیچ میں پھنسی پاکستانی صحافی عروسہ عالم نے اس معاملے پر اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے

امریندر سنگھ، عروسہ عالم
امریندر سنگھ، عروسہ عالم
user

قومی آوازبیورو

چنڈی گڑھ: پنجاب کے سابق وزیر اعلی امریندر سنگھ اور کانگریس لیڈروں کے درمیان چل رہی زبانی جنگ کے بیچ میں پھنسی پاکستانی صحافی عروسہ عالم نے اس معاملے پر اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پنجاب کانگریس کے رہنماؤں سے بہت مایوس ہیں اور وہ کبھی ہندوستان واپس نہیں آئیں گی، کیوں کہ انہیں بہت تکلیف پہنچی ہے۔

گزشتہ ہفتے پنجاب کے نائب وزیر اعلیٰ سکھجندر سنگھ رندھاوا نے کہا تھا کہ عروسہ عالم کے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ساتھ مبینہ تعلقات کی تحقیقات کی جائیں گی۔ امریندر سنگھ نے اس معاملے پر جواب دیتے ہوئے اپنے میڈیا ایڈوائزر روین ٹھکرال کی طرف سے پوسٹ کیے گئے ٹویٹس میں کہا کہ عروسہ عالم حکومت ہند کی منظوری کے بعد گزشتہ 16 سالوں سے ہندوستان تشریف لا رہی ہیں۔


انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق عروسہ عالم نے کہا، ’’میں یقین نہیں کر سکتی کہ وہ اتنا نیچے گر سکتے ہیں۔ سکھجندر رندھاوا، پنجاب کانگریس کے سربراہ نوجوت سنگھ سدھو اور ان کی اہلیہ نوجوت کور سدھو مجھے استعمال کر کے کیپٹن کو شرمندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں ان سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا وہ اتنے دیوالیہ ہیں کہ انہیں اپنے سیاسی مقاصد کے لیے مجھے مدعو کرنا پڑ رہا ہے۔‘‘

اسمبلی انتخابات سے چند ماہ قبل امریندر سنگھ کو وزیر اعلیٰ کے عہدے سے ہٹائے جانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرا ان کے لیے پیغام ہے کہ برائے کرم ہوش کے ناخن لیں اور اپنے گھر کو سنبھالیں۔ پنجاب میں کانگریس اپنی زمین کھو چکی ہے۔ جنگ کے درمیان کون اپنا کمانڈر تبدیل کرتا ہے؟


آئی ایس آئی سے مبینہ روابط کے حوالہ سے رندھاوا کے تبصرہ پر عروسہ نے کہا، "میں کیپٹن کی دعوت پر اور اس سے پہلے دو دہائیوں اور 16 سالوں سے ایک صحافی کے طور پر اور ایک وفد کے حصہ کے طور پر ہندوستان آتی رہی ہوں۔ کیا وہ اچانک میرے اس طرح کے روابط سے بیدار ہو گئے ہیں؟ جب کوئی پاکستان سے ہندوستان آتا ہے تو اسے منظوری کے بوجھل عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ کسی عمل کو نظرانداز نہیں کیا گیا۔ مناسب اسکریننگ کی گئی۔ را، آئی بی، مرکزی وزارت داخلہ، وزارت خارجہ نے درخواست کا جائزہ لیا۔ وہ آن لائن ویزا فارم بھرنے کی بھی اجازت نہیں دیتے۔ ان کے خیال میں تمام ایجنسیاں مجھے اس طرح کی اجازت دے رہی تھیں؟‘‘

انہوں نے کہا، ’’میں ان تمام لوگوں سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ یو پی اے اور این ڈی اے کی حکومتیں اتنی نااہل تھیں کہ وہ آئی ایس آئی ایجنٹ کو ویزا دے رہی تھیں؟ ان سے کچھ سمجھ داری کی بات کرنے کو کہیں۔ وہ مجھے پورے تنازع میں گھسیٹ کر کپتان کو شرمندہ کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ وہ اپنی پارٹی بنا رہے ہیں اور اپنے تمام مواقع ضائع کر رہے ہیں۔ میں نے امریندر سنگھ کو ہندوستان کے مختلف رہنماؤں کی تصویریں بھیجیں، جن سے میں نے اپنی زندگی میں کیپٹن سے پہلے ملاقات کی تھی۔ میں یہ ضرور کہوں گی کہ یہ پنجاب کی سیاست میں سب سے نچلی سطح ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔