پاکستان نے ہندوستانی سفارتکاروں کو کلبھوشن جادھو سے ملاقات کی دی اجازت

بین الاقوامی عدالت نے کلبھوشن جادھو کی پھانسی کی سزا پر تب تک روک لگا دی تھی جب تک کہ پاکستان اپنے فیصلے پر نظر ثانی اور اس کا مؤثر جائزہ نہیں کرلیتا۔

تصویر سوشل میڈی
تصویر سوشل میڈی

یو این آئی

اسلام آباد: پاکستان نے جیل میں بند ہندوستان کے سابق بحری افسر کلبھوشن جادھو سے دو اگست کو ہندوستانی سفارتکاروں سے ملاقات کی اجازت دے دی ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو بتایا کہ ان کا ملک ہندوستان کی طرف سے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔ بین الاقوامی عدالت کی طرف سے کلبھوشن جادھو کو وکیل مہیا کرانے کی ہدایت کے تقریباََ پندرہ دن بعد پاکستان نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ بین الاقوامی عدالت نے پاکستان پر ویانا معاہدہ کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اسے ہدایت دی تھی کہ کلبھوشن جادھو کو سفارتکاروں سے ملاقات کرنے کی اجازت دے۔

بین الاقوامی عدالت نے کلبھوشن جادھو کی پھانسی کی سزا پر تب تک روک لگا دی تھی جب تک کہ پاکستان اپنے فیصلے پر نظر ثانی اور اس کا مؤثر جائزہ نہیں کرلیتا۔

وزارت خارجہ نے 19جولائی کو ایک بیان جاری کرکے کہا ’’بین الاقوامی عدالت کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ہندوستانی بحریہ کے سابق کمانڈر جادھو کو ویانا معاہدہ کے آرٹیکل 36(1) (B) کے تحت ان کے سفارتی حقوق کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ پاکستان ملک کے قوانین کے مطابق کلبھوش جادھو کو سفارتکاروں سے ملاقات کرنے کی اجازت دے گا اور اس کے لئے پوری تیاریاں کی جا رہی ہے۔‘‘

کلبھوشن جادھو کو مبینہ طورپر تین مارچ 2016 کو پاکستانی سلامتی دستوں نے بلوچستان سےاغوا کیا تھا اور پاکستان کے خارجہ سکریٹری نے اسلام آباد میں ہندوستانی ہائی کمیشن کو 25 مارچ کو ان کی گرفتاری کی اطلاع دی تھی۔ پاکستان کی فوجی عدالت نے جاسوسی کے الزام میں کلبھوشن جادھو کو اپریل 2017 میں موت کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف ہندوستان نے آٹھ مئی 2017 کو بین الاقوامی عدالت میں اپیل کی تھی۔