پاکستان: عمران خان نے حکومت کو دیا الٹی میٹم، 6 روز بعد اسلام آباد واپس آئیں گے، لانگ مارچ ختم

سابق وزیر اعظم عمران خان نے اب حکومت کو چھ دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے حکومت سے اسمبلیاں تحلیل کرنے اور انتخابی تاریخوں کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا ہے

لانگ مارچ میں مظاہرین پر طاقت کا استعمال / Getty Images
لانگ مارچ میں مظاہرین پر طاقت کا استعمال / Getty Images
user

سید خرم رضا

اسلام آباد: گزشتہ کئی ماہ سے پاکستان میں سیاسی سرگرمیاں شباب پر ہیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے اب حکومت کو چھ دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے حکومت سے اسمبلیاں تحلیل کرنے اور انتخابی تاریخوں کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا ہے، بصورت دیگر وہ دوبارہ اسلام آباد آئیں گے اور اس مرتبہ 30 لاکھ افراد کے ساتھ تشریف لائیں گے۔

ویسے تو کئی روز سے عمران خان کی ’لانگ مارچ‘ کے تعلق سے سیاسی سرگرمیاں تیز تھیں لیکن کل صبح سے اب تک پاکستان میں اس مارچ پر زبردست ہنگامہ آرائی جاری ہے۔ عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ وہ 20 لاکھ لوگوں کے ساتھ اسلام آباد پہنچیں گے۔ اس اعلان کے پیش نظر حکومت نے لانگ مارچ کو ناکام بنانے کے لئے جہاں حفاظتی انتظامات کئے تھے، وہیں عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے کئی رہنماؤں کے ٹھکانوں پر چھاپے ماری کی گئی اور اسلحہ برامد کیا گیا۔ ظاہر ہے یہ کارروائی حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کارکنان میں خوف اور دہشت پھیلانے کی کوشش تھی۔


عمران خان اپنے اعلان کے مطابق وہ 20 لاکھ پاکستانیوں کو گھر سے نکالنے میں کامیاب نہیں ہوئے اور چند ہزار ہی لوگ سڑکوں پر نظر آئے لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ پاکستانی سماج کو دو حصوں میں تقسیم کرنے میں وہ کامیاب نظر آئے۔ ان کے ہٹائے جانے کے بعد جو پاکستانی سیاست میں سرگرمیاں ہیں اس سے صاف ظاہر ہے کہ پاکستانی سماج یا تو عمران خان کے ساتھ ہے یا ان کے خلاف ہے یعنی ایک طرف عمران خان ہیں اور دوسری جانب پاکستان کی دیگر سیاسی پارٹیاں ہیں۔

کل جب حکومت کی جانب سے اسلام آباد انتظامیہ اور پاکستانی حکومت نے لانگ مارچ کو روکنے کے لئے تمام اقدامات اٹھائے تو عمران خان کی پارٹی کے لوگوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور حقِ احتجاج کی دلیل دی، جس پر سپریم کورٹ نے ایک جگہ کا تعین کر کے حکومت سے تمام حفاظتی انتظامات کے لئے کہا لیکن پی ٹی آئی کے کارکنان ’ڈی چوک‘ پر ہی جانا چاہتے تھے۔ ڈی چوک پاکستان کے ’ریڈ زون‘ میں شمار ہے یعنی یہاں پاکستانی حکومت کے اہم دفاتر واقع ہیں۔


اطلاعات کے مطابق پی ٹی ائی کارکنان نے کل رات بھر پتھر بازی کی اور کئی میٹرو وغیرہ کو آگ لگانے کی کوشش کی۔ ادھر رینجرز کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ ان کا ایک اہلکار زخمی ہوا ہے جبکہ عمران خان کا دعوی ٰ ہے کہ دو مظاہرین کی موت ہو گئی ہے۔

خبر لکھے جانے تک عمران خان کے اس اعلان کے باوجود کے انہوں نے حکومت کو چھ دن کی مہلت دے دی ہے اور چھ دن بعد وہ دوبارہ اسلام آباد واپس آئیں گے پی ٹی آئی کے کارکنان ہنگامہ آرائی کر رہے ہیں اور ڈی چوک ریڈ زون کی جانب گامزن ہیں۔

واضح رہے عمران خان کی حکومت حال ہی میں عدم اعتماد کی تحریک کے دوران اکثریت کھو بیٹھی تھی اور اقتدار سے باہر ہو گئی تھی۔ جس پر عمران خان نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ اس اقتدار کی تبدیلی کے پیچھے ہے اور وہ موجودہ حکومت کو ’امپورٹڈ حکومت‘ کہتے ہیں، تاہم امریکہ نے عمران خان کے اس الزام کی تردید کی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔