نواز شریف کی حالت نازک، خون میں پلیٹ لیٹس کی تعداد پہنچی 12 ہزار

پاکستان کے سابق پی ایم نواز شریف کو جب اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا تو ان کے پلیٹ لیٹس کی تعداد 12 ہزار تھی۔ انہیں کئی میگا یونٹ پلیٹ لیٹس چڑھائی گئی جس کے بعد پلیٹ لیٹس کی تعداد بڑھ کر 18 ہزار ہوئی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

لاہور: لاہور کے سروس اسپتال میں داخل پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے جسم میں خون کی پلیٹلیٹس کی تعداد کافی کم ہو گئی ہے ، مسلسل پلیٹ لیٹس چڑھائے جانے کے باوجود ان کی حالت نازک بنی ہوئی ہے۔

نواز شریف کو طبیعت بگڑنے کے بعد پیر کی شب اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ منگل کو ان کی میڈیکل جانچ کی رپورٹ کے مطابق ان کے خون میں پلیٹ لیٹس کی تعداد ایک وقت گر کر محض 2000 1رہ گئی تھی۔ انہیں جب اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، تب پلیٹ لیٹس کی تعداد 12 ہزار تھی اور اس کے بعد انہیں کئی میگا یونٹ پلیٹ لیٹس چڑھائی گئی ہیں اور منگل کی شام تک پلیٹ لیٹس کی تعداد بڑھ کر 18 ہزار ہو گئی،اس کے باوجود ان کی صحت میں کوئی خاص بہتری نہیں ہو رہی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق کسی صحت مند شخص کے جسم میں خون کی پلیٹ لیٹس کی تعداد 140000 سے 450000 کے درمیان ہونا چاہیے۔

اسپتال کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر ایاز محمود کی قیادت میں ڈاکٹروں کا چھ رکنی بورڈ نواز شریف کا علاج کر رہا ہے۔ اس بورڈ کے ایک رکن ڈاکٹر نے بتایا کہ ان کی پلیٹ لیٹس کی تعداد کم ہونے کی وجوہات کی جانچ کی جا رہی ہے۔ ان کے کئی طرح کے ٹسٹ کیے گئے ہیں لیکن ان کی بیماری کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔ ان کی بیماری کا پتہ لگانے کے لئے مزید تحقیقات کی جا رہی ہے۔

نواز شریف کی بگڑتی حالت کو دیکھتے ہوئے پنجاب حکومت ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان خان کو میڈیکل بورڈ میں شامل کرنے کی ہدایت دے سکتا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ-نواز کے صدر اور نواز شریف کے بھائی شہباز شریف نے منگل کی شام ان سے ملاقات کی۔ ان کے علاوہ پنجاب کی وزیر صحت یاسمین راشد نے بھی اسپتال میں ان کی خیریت پوچھی۔