اویسی کا بنگال کھیل شروع ،عباس صدیقی سے ملایا ہاتھ

ترنمول کانگریس کے لیڈر شوکت علی ملا نے عباس صدیقی کو بی جے پی کا دلال اور ایجنٹ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مسلم ووٹوں کو منتشر کرنے کےلئے عباس صدیقی جیسے لوگوں کا بی جے پی استعمال کررہی ہے ۔

فائل تصویر آئی اےاین ایس
فائل تصویر آئی اےاین ایس
user

قومی آوازبیورو

آل انڈیا مسلم مجلس اتحاد المسلمین کے صدر و ممبر پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے اچانک آج مغربی بنگال کے دورے پر پہنچے اور ہگلی ضلع کے فرفرہ شریف پہنچ کرپیر زادہ عباس صدیقی اور پیر زادہ نوشاد صدیقی سے ملاقات کی ۔اس درمیان پیر حضرت ابوبکر کے مزار پر جاکر فاتحہ بھی پڑھا۔اویسی کے اس اچانک دورے کا سیدھا مطلب یہ نکالا جا رہا ہے کہ انہوں نے اپنا مغربی بنگالکا کھیل شروع کر دیا ہے اور ان کے اس کھیل کا سیدھا فائدہ بی جے پی کی فرقہ وارانہ سیاست کو ہوگا۔

اسدالدین اویسی نے پیر زادہ عباس صدیقی اور آل انڈیا مسلم لیگ مغربی بنگال شہنشاہ جہانگیر کے ساتھ طویل میٹنگ کی جس میں ریاست کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ کےلئے لائحہ عمل مرتب کیا گیا ۔ملاقات کے بعد اسد الدین اویسی نے کہا کہ آل انڈیامسلم مجلس اتحاد المسلمین پیر زادہ عباس صدیقی کے ساتھ مل کر مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کا حصہ لیں گے ۔


کل صبح اسدالدین اویسی چند افراد کے ساتھ مل کر کلکتہ سے فرفرہ شریف پہنچے تھے ۔اویسی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ مغربی بنگال کی ترقی میں فرفرہ شریف کا بہت ہی اہم رول رہا ہے ۔پیر ابو بکر نے اس علاقے کی خدمت کی ہے ۔ پیر صوفی شیخ ابوبکر صدیقی ؒسماجی اصلاحات کے ساتھ برطانوی سامراج کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔

اسدالدین اویسی نے کہا کہ آل انڈیا مسلم مجلس اتحاد المسلمین عباس صدیقی کے ساتھ مل بنگال اسمبلی انتخابات میں حصہ لے گی اور وہ جو فیصلہ کریں گے ہم اس کی تابعداری کریں گے ۔اویسی نے کہا کہ عباس صدیقی کو فیصلہ کرنا ہے وہ بنگال کےلئے کیا حکمت عملی بناتے ہیں ۔تاہم اویسی نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ عباس صدیقی آل انڈیا مسلم مجلس اتحادالمسلمین میں شامل ہوں گے اور پھر بنگال میں وہ میم کا چہرہ ہوں گے یا پھر عباس صدیقی کی سیاسی جماعت کے ساتھ مل کر انتخاب لڑیں گے ۔


حالیہ برسوں میں مغربی بنگال کے ایک حلقے میں عباس صدیقی بنگالی مسلمانوں کے درمیان ابھرکر سامنے آئے ہیں۔کئی مہینے قبل ترنمول کانگریس کے مبینہ ورکروں نے ان پر حملہ کردیا تھا ۔ترنمول کانگریس کے لیڈر شوکت علی ملا نے عباس صدیقی کو بی جے پی کا دلال اور ایجنٹ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مسلم ووٹوں کو منتشر کرنے کےلئے عباس صدیقی جیسے لوگوں کا بی جے پی استعمال کررہی ہے ۔

خیال رہے کہ بہار اسمبلی انتخابات میں اسدالدین اویسی کی جماعت نے پانچ سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی ۔اس کے بعد سے ہی اویسی کے حوصلے بلند ہیں تاہم دوسری طرف مسلمانوں کا ایک بڑا حلقہ اس بات کا تشویش کا اظہار کررہے ہیں کہ مسلم ووٹوں کے انتشار سے بی جے پی کو فائدہ ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔